واشنگٹن (14 جنوری 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف کے معاملے پر سپریم کورٹ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فیصلہ ٹیرف کے خلاف آیا تو سیکڑوں ارب ڈالر واپس کرنا پڑیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر امریکا کے لیے ادائیگیاں تقریباً ناممکن ہو جائیں گی، اتنی بڑی رقم کا حساب لگانے میں بھی برسوں لگ سکتے ہیں، جو کہے کہ یہ مسئلہ آسانی سے حل ہو سکتا ہے وہ غلط فہمی کا شکار ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکی سپریم کورٹ ان کے عالمی تجارتی ٹیرف (محصولات) کو کالعدم قرار دیتی ہے تو یہ صورتِ حال ’’مکمل افراتفری‘‘ بن جائے گی۔ قومی سلامتی سے جڑے معاملے میں فیصلہ خلاف آیا تو شدید بحران کا شکار ہو جائیں گے۔
سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ ٹیرف کے خلاف فیصلے پر ’’ہم بری طرح پھنس جائیں گے‘‘۔ خیال رہے کہ اس فیصلے کی توقع آج بدھ کے روز کی جا رہی ہے۔ یہ ٹرمپ کی متنازع معاشی حکمتِ عملی اور اختیارات کے حوالے سے ایک نہایت اہم قانونی امتحان بتایا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے ایران سے تمام سفارتی روابط منقطع کردیے، فضائی حملوں کا امکان، امریکی میڈیا
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فیصلے کے بعد ٹیرف کو واپس لینا مشکل ہو جائے گا کیوں کہ کاروباری ادارے اور ممالک رقوم کی واپسی (ریفنڈ) کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول ’’یہ جاننے میں کئی سال لگ جائیں گے کہ ہم کس رقم کی بات کر رہے ہیں اور حتیٰ کہ یہ بھی کہ کس کو، کب اور کہاں ادائیگی کرنی ہے۔‘‘
نومبر میں سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے وسیع عالمی ٹیرف نظام کی قانونی بنیاد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا، ججوں نے صدر کے ان محصولات عائد کرنے کے اختیار پر سوال اٹھائے۔ وہ وسیع عالمی ٹیرف، جن کا اعلان پہلی بار گزشتہ سال اپریل میں ٹرمپ نے کیا تھا، کو چھوٹے کاروباری اداروں اور امریکا کی 12 ریاستوں نے چیلنج کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ صدر نے ملک میں درآمد ہونے والی اشیا پر نئے محصولات عائد کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


