اتوار, فروری 15, 2026
اشتہار

’پتہ نہیں وہ کیسے زندہ ہیں‘ امریکی وزیر صحت کا ٹرمپ سے متعلق حیران کن انکشاف

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن (15 جنوری 2026): امریکا کے وزیر صحت نے اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آخر زندہ کیسے ہیں، کیوں کہ وہ بہت زیادہ الم غلم کھانے کھاتے ہیں۔

امریکی وزیرِ صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے کہا ہے کہ سفر کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ بین الاقوامی نامور فوڈ کمپنیوں کا کھانا اس لیے کھاتے ہیں کہ وہ اسے محفوظ سمجھتے ہیں، اتنا جنک فوڈ استعمال کرنے کے باوجود ٹرمپ نہایت متحرک ہیں اور ’یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیسے اتنے صحت مند ہیں اور زندہ ہیں۔‘

انھوں نے انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ کی خوراک غیر معمولی ہے، وہ فاسٹ فوڈ، مٹھائیوں اور ڈائٹ کولڈرنکس کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

فوربز کے مطابق محکمۂ صحت و انسانی خدمات (HHS) کے سیکریٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے یہ راز ایک پوڈکاسٹ کے دوران کھولا، انھوں نے ٹرمپ کی خوراک کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ صدر اب تک زندہ ہیں، کیوں کہ وہ کثرت سے ایسی چیزیں استعمال کرتے ہیں جنھیں کینیڈی نے ’’زہر‘‘ قرار دیا۔

انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن پر خلا باز کی طبیعت اچانک پراسرار طور پر خراب ہو گئی

دی کیٹی ملر پوڈکاسٹ میں اپنی شرکت کے دوران، جس کی میزبانی وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر کی اہلیہ کرتی ہیں، کینیڈی سے سوال کیا گیا کہ سب سے زیادہ ’’بے قابو اور غیر معمولی کھانے کی عادات‘‘ کس کی ہیں۔ کینیڈی نے چند لمحے توقف کے بعد جواب دیا: ’’صدر کی۔‘‘

ٹرمپ کے بارے میں کینیڈی نے کہا ’’مجھے نہیں معلوم وہ کیسے زندہ ہیں۔ وہ انتہائی غیر صحت بخش غذا کھاتے ہیں، جن میں مکڈونلڈز، مٹھائیاں اور ڈائٹ کوک شامل ہیں۔ وہ ہر وقت ڈائٹ کوک پیتے رہتے ہیں۔ ان کا جسمانی نظام کسی دیوتا جیسا ہے۔‘‘

کینیڈی کے مطابق، جب صدر وائٹ ہاؤس یا مار-اے-لاگو میں ہوتے ہیں تو وہ نسبتاً صحت مند غذا کھاتے ہیں، لیکن سفر کے دوران ٹرمپ فاسٹ فوڈ استعمال کرتے ہیں، کیوں کہ وہ اس پر اعتماد کرتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ سفر کے دوران بیمار ہو جائیں۔ پوڈکاسٹ میں کینیڈی نے مزید کہا ’’اگر آپ ان کے ساتھ سفر کریں تو آپ کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ دن بھر اپنے جسم میں زہر انڈیل رہے ہوں، اور آپ کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ چل پھر کیسے رہے ہیں، چہ جائیکہ ہم سب میں سب سے زیادہ متحرک شخص ہوں۔‘‘

یاد رہے کہ گزشتہ اپریل صدر کے سالانہ طبی معائنے کے بعد ان کے معالج نے بتایا تھا کہ صدر ’’انتہائی اچھی صحت‘‘ کے حامل ہیں، جب کہ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ خود کو ’’بہت اچھی جسمانی حالت‘‘ میں محسوس کرتے ہیں۔ تاہم ان طبی ٹیسٹوں پر شکوک و شبہات بھی ظاہر کیے گئے تھے، کیوں کہ صدر کے وزن، دل کی بیماری کی ہسٹری اور بڑھتی عمر کی بعض جسمانی علامات پر توجہ دی گئی تھی۔

YouGov اور دی اکانومسٹ کے مئی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق تقریباً نصف امریکیوں کا خیال تھا کہ ٹرمپ نے اپنی صحت کے بارے میں مکمل شفافیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ستمبر میں انہی اداروں کے فالو اَپ سروے میں 39 فی صد افراد نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی صحت سے متعلق جاری کی جانے والی معلومات پر اعتماد نہیں کرتے، جب کہ 13 فیصد نے کہا کہ وہ ان معلومات پر ’’بہت تھوڑا‘‘ یقین رکھتے ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں