واشنگٹن (11 مئی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ایران سے مذاکرات نیتن یاہو نہیں اُن کا اپنا معاملہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا ادارے ایکسیوس کو بتایا کہ انھوں نے اتوار کے روز نیتن یاہو سے فون پر بات کی، اور اسرائیلی وزیر اعظم سے ایران کے اُس جواب پر گفتگو کی، جو جنگ ختم کرنے کی امریکی تجویز کے رد عمل میں دیا گیا تھا، اس کے علاوہ بھی کئی امور زیرِ بحث آئے۔
انھوں نے کہا ’’یہ ایک بہت اچھی کال تھی۔ ہمارے تعلقات اچھے ہیں۔‘‘ تاہم نیتن یاہو کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران سے متعلق مذاکرات ’’میرا معاملہ ہے، باقی سب کا نہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی رابطوں کے باوجود تہران کے ساتھ سفارتی معاملات کی قیادت اب بھی واشنگٹن ہی کر رہا ہے۔
ایران نے ممکنہ ڈیل کے لیے سلامتی کونسل کی مہر لازمی قرار دے دی
ٹرمپ نے ایک مختصر فون گفتگو میں ایکسیوس کو بتایا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کی جانب سے پیش کردہ جواب پر مبنی مسودے کو وہ مسترد کر دیں گے۔ انھوں نے کہا ’’مجھے ان کا جواب پسند نہیں آیا۔ یہ مناسب نہیں ہے۔ مجھے ان کا جواب پسند نہیں ہے۔‘‘
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تفصیل نہیں بتائی کہ ایرانی جواب میں کیا تجاویز شامل تھیں۔ نیز ٹرمپ نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ آیا وہ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں یا ممکنہ طور پر فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کریں گے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


