واشنگٹن (05 نومبر 2025): دنیا میں ’جنگیں رکوانے والے‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اپنی کم ترین سطح 36 فی صد پر آ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی حمایت میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، تازہ ترین سروے میں ظاہر ہوا ہے صرف 37 فی صد امریکیوں نے بطور صدر ان کی کارکردگی کی توثیق کا اظہار کیا، اور 68 فی صد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ ملکی حالات خراب تر ہو رہے ہیں۔
رواں برس جنوری میں دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد فروری کے وسط تک ٹرمپ کی مقبولیت 47 فی صد تھی، جو اب کم ہو کر صرف 36 فی صد رہ گئی ہے۔ یہ سروے سی این این اور ایس ایس آر ایس نے کیا، جو پیر کے روز جاری کیا گیا۔
تازہ ترین سروے، جو 27 سے 30 اکتوبر کے درمیان 1,245 بالغ امریکیوں کے درمیان کیا گیا، ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ کی ناپسندیدگی (disapproval) کی شرح 63 فی صد ہے، جو جنوری 2021 میں کیپیٹل ہل پر حملے کے بعد ریکارڈ کی گئی ناپسندیدگی سے بھی ایک پوائنٹ زیادہ ہے۔
بھارتی شہریوں کے لیے بری خبر، کینیڈا نے عارضی ویزے بند کرنے کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا
جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ ’’آج امریکا میں حالات کیسے جا رہے ہیں؟‘‘ تو 68 فی صد امریکیوں نے کہا کہ ’’کافی یا بہت برے‘‘ جا رہے ہیں، جب کہ صرف 32 فی صد نے کہا کہ ’’کافی یا بہت اچھے‘‘ ہیں۔
یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت امریکی تاریخ کے سب سے طویل شٹ ڈاؤن (بندش) میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سروے میں یہ بھی پایا گیا کہ 47 فی صد امریکیوں کے نزدیک معیشت اور مہنگائی اس وقت ملک کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔
دوسرے نمبر پر امریکی جمہوریت کی حالت ہے، جسے 26 فی صد نے سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ موازنے کے طور پر صرف 10 فیصد امریکیوں نے امیگریشن کو سب سے بڑی تشویش بتایا، حالاں کہ ٹرمپ کی انتظامیہ اس معاملے کو اپنی مرکزی ترجیحات میں رکھے ہوئے ہے، جس میں آئی سی ای کے چھاپوں میں اضافہ، پناہ گزینوں کی تعداد میں سخت کمی اور وفاقی عدالتوں میں جاری امیگریشن مقدمات شامل ہیں۔
فہرست میں نیچے آنے والے دیگر مسائل میں جرائم اور عوامی سلامتی شامل ہیں، جنھیں صرف 7 فی صد امریکیوں نے تشویش کا باعث کہا، باوجود اس کے کہ ٹرمپ بارہا وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ امریکا کے بڑے شہروں، جنھیں وہ ’’جہنم کے گڑھے‘‘ اور ’’جنگ زدہ علاقے‘‘ کہتے ہیں، کو ’’جرائم، خوں ریزی اور بدامنی‘‘ سے پاک کریں گے۔
سروے میں شامل افراد میں سے صرف 27 فی صد کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے ملکی معیشت کو بہتر کیا، جب کہ 61 فی صد کا خیال ہے کہ ان پالیسیوں نے معیشت کو بدتر بنایا، اور 12 فی صد کے نزدیک ان پالیسیوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ یہ نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب دیہی ریپبلکن علاقوں میں بڑھتی ہوئی تشویش پائی جا رہی ہے، جہاں ٹرمپ کے تجارتی محصولات (ٹیرف) کی وجہ سے فیکٹریوں میں برطرفیاں اور پیداوار میں سست روی دیکھی جا رہی ہے۔
خارجہ پالیسی کے بارے میں 32 فی صد امریکیوں نے کہا کہ ٹرمپ کے فیصلوں نے امریکا کی عالمی حیثیت بہتر کی، جب کہ 56 فیصد کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں نے امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، اور 12 فی صد نے کہا کہ کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔
مزید یہ کہ 61 فی صد امریکیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ نے صدارتی اختیارات کا حد سے زیادہ استعمال کیا ہے، جب کہ 31 فی صد نے کہا کہ ان کا طاقت کا استعمال مناسب تھا، اور 9 فی صد کے نزدیک انھوں نے اپنی طاقت کا کافی استعمال نہیں کیا۔
یاد رہے کہ جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ نے صدارتی اختیارات میں غیر معمولی وسعت پیدا کی ہے، جیسے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر بین الاقوامی حملوں کی اجازت دینا، ریاستی گورنروں کی مخالفت کے باوجود نیشنل گارڈ تعینات کرنا، اور ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے آزاد ریگولیٹری اداروں کو براہِ راست وائٹ ہاؤس کے ماتحت لانا۔ ان اقدامات نے ملک بھر میں شدید تشویش پیدا کی ہے۔
سروے میں عوامی رویوں کا یہ رجحان بھی سامنے آیا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف ٹرمپ کی تحقیقات وزارتِ انصاف کو ان کے ’’ذاتی ہتھیار‘‘ میں تبدیل کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہیں جیسا کہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں۔
اگلے سال نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے تناظر میں 41 فی صد امریکیوں نے کہا کہ اگر آج کانگریس کے انتخابات ہوں، تو ان کا ووٹ ٹرمپ کی مخالفت ظاہر کرنے کا ذریعہ ہوگا۔ اس کے برعکس 21 فی صد نے کہا کہ ان کا ووٹ ٹرمپ کی حمایت کا اظہار ہوگا، جب کہ 38 فی صد کا کہنا تھا کہ ان کا ووٹ ٹرمپ کے حق یا مخالفت کا کوئی پیغام نہیں دے گا۔


