واشنگٹن (14 فروری 2026): صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکی ماحولیاتی ضابطوں کی بنیاد منسوخ کر دی، جس سے گاڑیوں سے دھوئیں اور گیسوں کے اخراج کے معیارات ختم ہو گئے۔
روئٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعرات کے روز بارک اوباما کے دور میں کیے گئے اُس سائنسی فیصلے کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے مطابق گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج انسانی صحت کے لیے خطرہ ہے، اور کاروں اور ٹرکوں کے لیے وفاقی سطح پر مقرر کردہ ٹیل پائپ (گاڑیوں کے سلنسر) کے اخراج کے معیارات کو بھی ختم کر دیا۔
یہ اقدام اب تک موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پالیسیوں میں سب سے بڑا پسپائی کا قدم ہے، جو اس سے پہلے کیے گئے متعدد ضابطہ جاتی کٹوتیوں اور اُن اقدامات کے بعد سامنے آیا ہے جن کا مقصد حیاتیاتی ایندھن (فوسل فیول) کی ترقی کو آزاد کرنا اور صاف توانائی کے فروغ کی رفتار کو سست کرنا تھا۔
مشرق وسطیٰ میں بہت بڑی فوج تیار ہے، ٹرمپ کی ایران کو پھر دھمکی
ٹرمپ نے کہا ’’ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) کی جانب سے مکمل کیے گئے عمل کے تحت ہم باضابطہ طور پر نام نہاد ’اینڈینجرمنٹ فائنڈنگ‘ کو ختم کر رہے ہیں، جو اوباما دور کی ایک تباہ کن پالیسی تھی اور جس نے امریکی آٹو انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچایا اور امریکی صارفین کے لیے قیمتیں بڑھا دیں۔‘‘
صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈی ریگولیشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے گاڑیاں سستی ہوں گی اور آٹو صنعت کے لیے فی گاڑی تقریباً 24 سو ڈالرز تک لاگت کم ہو جائے گی۔
امریکی ماحولیاتی ادارے کا یوٹرن اور حیران کن بیان
ماحولیاتی تحفظ ایجنسی نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ اینڈینجرمنٹ فائنڈنگ ’’وفاقی صاف ہوا کے قوانین‘‘ کی غلط تشریح پر مبنی تھی۔ یہ قوانین دراصل امریکی عوام کو اُن آلودگیوں سے بچانے کے لیے بنائے گئے تھے جو مقامی یا علاقائی سطح پر نقصان پہنچاتی ہیں، نہ کہ اُن سے جو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ذریعے اثر انداز ہوتی ہیں۔ ایجنسی نے اس قانونی نظریے کو غلط قرار دیا اور کہا اس کی وجہ سے ای پی اے اپنے قانونی اختیارات کی حدود سے باہر نکل گیا تھا۔
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے سے پاکستان اور دوسرے ممالک کی معیشت اور خوراک کے نظام پر مزید دباؤ بڑھے گا۔ 2009 کے اُس اہم ماحولیاتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ گرین ہاؤس گیسیں عوامی صحت کے لیے خطرہ ہیں اور یہی فیصلہ امریکا میں اخراج کم کرنے کے وفاقی قوانین، خاص طور پر گاڑیوں سے متعلق ضوابط کی قانونی بنیاد بنا۔ ماحولیاتی تنظیموں نے اس فیصلے کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیتے ہوئے عدالتوں سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کو ایک ’’دھوکا‘‘ سمجھتے ہیں اسی لیے انھوں نے امریکا کو پیرس ایگریمنٹ سے بھی نکال لیا تھا، جس کے نتیجے میں دنیا کا تاریخی طور پر سب سے بڑا گرین ہاؤس گیس خارج کرنے والا ملک عالمی کوششوں سے الگ ہو گیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


