اسرائیل فلسطین پالیسی پر امریکہ نے پالیسی تبدیل کرلی -
The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل فلسطین پالیسی پر امریکہ نے پالیسی تبدیل کرلی

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاکہناہےکہ میں دو ریاستوں کوایک ریاست کےطور پر دیکھ رہا ہوں،اور میں وہ پسند کررہا ہوں جو دونوں فریقین کو پسند ہے۔

تفصیلات کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسی کے روایتی ستون ’دو ریاستی حل‘سے علحیدگی کا اعلان کردیا ہے۔

خیال رہےکہ گزشتہ روز امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا وائٹ ہاؤس میں شانداراستقبال کیا،اس موقع پر مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازع کےاختتام کے لیےایک بہترین امن معاہدہ لائیں گے۔

امریکی صدر کا کہناتھاکہ فلسطینوں کو اس نفرت سے نجات حاصل کرنی چاہیے جو انہیں انتہائی کم عمری سے سیکھائی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ فلسطینیوں کواسرائیل کو تسلیم کرنا ہوگا۔

دونوں سربراہان نے مستقبل میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا خصوصی ذکر نہیں کیاجو تصور خطے میں امریکی پالیسی کا اہم ستون رہا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی اتحاد کی تعریف کی اور امن کےلیے اپنی شرائط کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ پہلے فلسطینیوں کو اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنا چاہیےاورانہیں اسرائیل کی تباہی کے مطالبے کو بند کرنا ہوگا۔

نیتن یاہوکا کہنا تھا کہ کسی بھی امن معاہدے کے تحت اسرائیل کو مغربی دریائے اردن کے تمام علاقوں پر سیکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:اسرائیلی پارلیمنٹ نےیہودی بستیوں کی تعمیر کامتنازع قانون منظور کرلیا

واضح رہےکہ صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے لے کر اب تک اسرائیل نے غربِ اردن کے مقبوضہ علاقوں ہزاروں مکانوں پر مشتمل یہودی بستیوں کی تعمیر کی منظور دے دی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں