واشنگٹن (03 دسمبر 2025): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران نیند سے لڑتے ہوئے نظر آئے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
منگل کو دوپہر کے فوراً بعد 2 گھنٹے 18 منٹ طویل اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کی آنکھیں متعدد بار بند ہوئیں، سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے صدر کی کوششوں کی تعریف کی اور جنگ ختم کرنے کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا، تو ٹرمپ کی غنودگی زیادہ واضح ہو گئی۔
ویڈیو کے حوالے سے صحافیوں نے پوچھا کہ کیا وہ سو رہے تھے تو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے جواب دیا کہ صدر پوری توجہ سے سن رہے تھے اور اجلاس کی سربراہی کر رہے تھے۔
دوسری طرف سی این این نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اجلاس کے آغاز میں جو بائیڈن پر طنز کیا اور انھیں ’سلیپی جو‘ کہا اور ساتھ میں نیویارک ٹائمز کی رپورٹ (جس میں کہا گیا تھا کہ 79 سالہ صدر اپنی دوسری مدت کے دوران سست ہوتے دکھائی دیتے ہیں) پر تنقید کی کہ ٹرمپ ذہین ہے اخبار والے نہیں، اور وہ 25 سال پہلے کی نسبت زیادہ تیز و ذہین ہیں۔
لیکن اگلے ڈیڑھ گھنٹے میں ٹرمپ خود اسی ذہانت اور چستی کا مظاہرہ کرنے میں لڑکھڑاتے دکھائی دیے جس کا انھوں نے دعویٰ کیا تھا، وہ دوپہر کی نیند کے خلاف ایک ناکام جنگ لڑتے دکھائی دیے۔ سی این این نے لکھا کہ اگرچہ ان کی کابینہ اُن کی پسندیدہ سرگرمی یعنی ٹرمپ کی تعریفیں کرنے میں مصروف تھی، لیکن وہ بار بار جھپکیاں لیتے ہوئے دکھائی دیے۔
یہ بالکل وہی منظر تھا جس کا مذاق ٹرمپ ماضی میں اُڑایا کرتے تھے اور اسے کسی صدر کی توانائی اور صلاحیت کے فقدان کی علامت قرار دیتے تھے۔ اور اپنی صحت اور توانائی سے متعلق رپورٹنگ پر تنقید کرنے کے تقریباً 15 منٹ بعد ہی ٹرمپ کی آنکھیں نیم بند ہونے لگیں، یہ وہ وقت تھا جب کامرس سیکریٹری ہاورڈ لوٹنک ان کی تجارتی جنگوں کی تعریف کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے ’’سب سے عظیم صدر کے لیے سب سے عظیم کابینہ!‘‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


