واشنگٹن : امریکی صدر ٹرمپ نے روانڈا اور کانگو کے درمیان تیس سال پرانی دشمنی ختم کر ادی۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں روانڈا اور کانگو کےدرمیان 30سالہ دشمنی ختم ہوگئی۔
امریکی صدر ٹرمپ انسٹیٹیوٹ آف پیس میں تاریخی معاہدے پردستخط کردیے گیے۔
کانگو اور روانڈا کے صدور نے واشنگٹن کارڈ پر دستخط کر کے 30 سالہ دشمنی ختم کرنے کا اعلان کیا۔
معاہدے پر دستخط سے پہلے ٹرمپ نے دونوں صدور سےوائٹ ہاؤس میں ملاقات کی ، معاہدے کےتحت روانڈا کانگو میں باغی گروپوں کی حمایت ختم کرے گا اور ایک دوسرے کیخلاف فوجی کارروائیاں بند کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے دستخطی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کا ایک اور بڑا تنازعہ حل کر دیا ہے، دونوں ملکوں میں امن سےخوشحالی کےنئےمواقع پیدا ہوں گے اور دونوں ملکوں میں امریکانایاب معدنیات کی دریافت میں سرمایہ کاری کرے گا۔
روانڈا کے صدر پال کاگامی نے امن معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا 30 سال سے جاری تنازعےکوآج تک کوئی ختم نہیں کرا سکا، کئی ملکوں اورافراد نےثالثی کی کوشش کی لیکن کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔
پال کاگامی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے غیر جانبدارانہ طورپرامن کیلئے ثالثی کا کردار ادا کیا، امن معاہدہ کامیاب نہ ہوا تو ذمہ داری ٹرمپ کی نہیں بلکہ ہماری ہوگی، دونوں ملکوں کو اب اپنے لوگوں کی خوشحالی، بہترمستقبل پر توجہ دینا ہوگی۔
دستخطی تقریب سے کانگو کے صدر فیلکس ٹشیکیڈی نے خطاب نے کہا ہم نے امن کیلئے آج واشنگٹن معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں، امن کی کوششوں پر صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
فیلکس ٹشیکیڈی کا کہنا تھا کہ معاہدے پرکردار اداکرنے پر دیگر دوست ممالک اورشراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، یہ امن معاہدہ پورے خطے کی خوشحالی کا باعث بنے گا۔
جہانزیب علی اے آر وائی نیوز امریکا میں بطور بیورو چیف فرائض انجام دے رہے ہیں


