واشنگٹن (07 مئی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اب شدت سے ڈیل چاہتا ہے اور یہ بہت آسان ہو گیا ہے۔
انھوں نے کہا گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی، ایران جوہری پروگرام جاری نہ رکھنے سمیت کئی معاملات پر آمادہ ہو چکا ہے، اب یہ ممکن ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل ہو جائے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران سے متعلق ہم اچھی پوزیشن میں ہیں، حالات ٹھیک ہیں، ہم ایران سے وہ حاصل کریں گے جو چاہیے، بس ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں۔ امریکی صدر نے دہراتے ہوئے کہا ایران کی فضائیہ اور نیوی کو تباہ کر دیا، ایران کے میزائل اور ریڈار ختم کر دیے ہیں، ہم جیت چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی پہلی لیول اور دوسری لیول کی قیادت ماری جا چکی ہے، یہ رجیم چینج ہے، پہلے بھی ایران کے ساتھ اچھی بات چیت ہوئی تھی لیکن بعد میں وہ بھول گئے۔
باقر قالیباف نے ایرانی عوام کی کفایت شعاری کو دشمن کے خلاف ’’مؤثر میزائل‘‘ قرار دے دیا
واضح رہے کہ امریکا ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے پریس ٹی وی کو انٹرویو میں بتایا کہ تہران امریکی تجاویز پر غور کر رہا ہے، کسی نتیجے پر پہنچنے کے بعد پاکستان کو اپنا مؤقف بتائیں گے۔
انھوں نے کہا جنگ کی تمام ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، پوری دنیا جانتی ہے یہ جنگ امریکا نے مسلط کی، امریکا کا منصوبہ ایران کو کمزور کر کے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا تھا لیکن ایرانی قوم کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گی، آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی فوج کے اقدامات قانونی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


