The news is by your side.

Advertisement

عوامی مقامات پر موبائل چارج کرنا کتنا بھاری پڑسکتا ہے؟

ہم آج ٹیکنالوجی کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں، ہر شخص نے لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فون کو اپنی ایسی ضرورت بنا لیا کہ اگر اُسے بیٹری ختم ہونے کا خدشہ ہوجائے تو وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

اسمارٹ فون یا لیپ ٹاپ کو ہم باقاعدگی کے ساتھ چارجنگ پر لگاتے ہیں تاکہ اپنے دوستوں یا عزیزوں سے رابطے رکھ سکیں، عصر حاضر کو مدنظر رکھتے ہوئے اب دنیا بھر میں مختلف مقامات جیسے ایئرپورٹس، ریلوے اسٹیشنز، اسپتالوں، بس اڈوں پر صارفین کو  مختلف کمپنیوں موبائل فون اور لیپ ٹاپ چارج کرنے کی سہولت دی جاتی ہے جہاں ہر قسم کی تاریں موجود ہوتی ہیں اور کوئی بھی شخص اپنا موبائل بالکل فری میں چارج کرسکتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ یوں موبائل چارج کرنا کسی خطرے سے خالی نہیں ہے۔

امریکی ریاست لاس اینجلس کے ماہرین نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی عوامی مقام پر اپنے فون چارج نہ کریں کیونکہ اس کے ذریعے ہیکرز اُن کے موبائل تک باآسانی رسائی حاصل کرلیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بیٹری چارج کرنے والی ایپ سے آپ کا موبائل بالکل غیر محفوظ ہے

ماہرین نے بالخصوص سفر کرنے والے مسافروں کو بتایا گیا ہے کہ یوایس بی چارجر میں ہیکرز نے ایک ایسی چپ نصب کی جو آپ کے موبائل یا لیپ ٹاپ  میں ایک وائرس داخل کرتی ہے ، یوں آپ کی مانیٹرنگ شروع ہوجاتی اور ڈیٹا کسی بھی وقت لیک ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب ضلعی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بغیر پیسے کہ موبائل چارجنگ کے بعد آپ کا بالخصوص بینک اکاؤنٹ غیر محفوظ ہوجاتا ہے کیونکہ ہیکرز ڈیٹا کی بنیاد پر اس تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں