ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ جسم میں خون کی گردش بنیادی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسی کے ذریعے آکسیجن اور ضروری غذائی اجزاء جسم کے ہر حصے تک پہنچتے ہیں۔
اگر خون کی گردش متاثر ہو جائے تو مختلف اعضاء اپنی کارکردگی کھو سکتے ہیں اور سنگین پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
طویل عرصے تک بیٹھے رہنا یا جسمانی سرگرمی سے دوری خون کے بہاؤ کو سست کر دیتی ہے۔ اس سے ٹانگوں کے پٹھے کمزور پڑ سکتے ہیں اور خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
انسانی جسم ایک مربوط نظام کی طرح کام کرتا ہے۔ ہر عضو کو مناسب مقدار میں آکسیجن اور غذا کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ ضرورت خون ہی پوری کرتا ہے۔ جب یہ نظام متاثر ہوتا ہے تو جسم مختلف علامات کے ذریعے خبردار کرتا ہے۔
نمایاں علامات
چہل قدمی کے دوران درد یا کمزوری
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق اگر چلتے وقت، سیڑھیاں چڑھتے ہوئے یا کسی بھی جسمانی مشقت کے دوران ٹانگوں میں درد ہو تو اسے نظرانداز نہ کریں۔ پنڈلیوں میں بھاری پن یا بے حسی بھی دورانِ خون کی خرابی کی علامت ہوسکتی ہے۔ اکثر آرام کے بعد یہ درد کم ہو جاتا ہے، لیکن بار بار ایسا ہونا خطرے کی گھنٹی ہے۔
جھنجھناہٹ : انگلیوں یا جسم کے کسی حصے میں سوئیاں چبھنے جیسا احساس خون کی ناقص گردش کی نشاندہی کرتا ہے۔
ٹھنڈے ہاتھ پاؤں : اگر موسم کی پروا کیے بغیر ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہتے ہوں تو یہ بھی دورانِ خون کے مسئلے کی طرف اشارہ ہے۔
سوجن : پاؤں، ٹخنوں یا ہاتھوں میں غیر معمولی سوجن بھی خون کے بہاؤ میں رکاوٹ کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔
خون کی گردش خراب ہونے کی ممکنہ وجوہات میں شریانوں میں رکاوٹ یا خون کے لوتھڑے بننا دل کی بیماری جس سے خون پمپ کرنے کی صلاحیت متاثر ہو، موٹاپا اور بڑھتا ہوا وزن، بڑھتی عمر کے ساتھ شریانوں کی سختی شامل ہے۔
خون کی گردش میں بہتری کیسے لائی جائے؟
باقاعدہ ورزش : روزانہ کم از کم 30 منٹ چہل قدمی، سائیکلنگ یا تیراکی مفید ہے۔
متوازن غذا : پھل، سبزیاں، مچھلی اور گری دار میوے شریانوں کو صحت مند رکھتے ہیں۔
تناؤ میں کمی : مراقبہ اور گہری سانس لینے کی مشقیں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
پانی کا استعمال : مناسب مقدار میں پانی خون کو گاڑھا ہونے سے بچاتا ہے۔
تمباکو نوشی سے پرہیز: یہ شریانوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
مساج اور گرم غسل : خون کے بہاؤ کو تیز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
نوٹ : ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ اگر ایسی علامات بار بار ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے تاکہ کسی بڑے خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔
ملتانی مٹی : بالوں اور چہرے کی خوبصورتی کا ایسا راز جو کم لوگ ہی جانتے ہیں
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


