site
stats
حیرت انگیز

قیامت کی گھڑی میں صرف دو منٹ رہ گئے

Doomsday Watch

واشنگٹن : سائنسدانوں نے ’قیامت کی گھڑی‘ کو مزید آگے بڑھادیا ہے جس کے بعد اب آدھی رات یعنی قیامت ہماری دنیا سے محض دو منٹ کے فاصلے پر رہ گئی ہے۔

بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹس نامی گروپ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ گھڑی رواں برس تیس سیکنڈ آگے بڑھائی گئی ہے اور آدھی رات سے اب دو منٹ دور رہ گئی ہے۔ ایٹمی جنگ اور موسمیاتی تبدیلیاں انسانی تہذیب کے لیے سب بڑا خطرہ ہیں جو قربِ قیامت کو قریب کررہا ہے۔

اس گروپ کی سربراہ راکیل برانسن کے مطابق موجودہ دور میں انتہائی خطرات کو دیکھتے ہوئے سوئیاں قیامت کے مزید قریب کر دی گئی ہیں اور اب یہ قیامت کے اتنے قریب ہوگئی ہے جتنا 1953 میں سرد جنگ کی شدت کے دوران پہنچ گئی تھی۔

یاد رہے کہ ہر سال گزشتہ برس کے واقعات کو دیکھتے ہوئے گھڑی کا وقت طے کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔اس سے قبل یہ گھڑی 1953 میں موجودہ زمانے کے وقت تک پہنچی تھی جس کی وجہ پہلی مرتبہ ہائیڈروجن بم کی آزمائش تھی۔

گزشتہ سال سائنسدانوں نے اعلان کیا تھا کہ ’قیامت کی گھڑی‘ جو پہلے نصف شب سے 3منٹ کی دوری پر تھی، اب 30سیکنڈ آگے بڑھ کر نصف شب کے مزید قریب چلی گئی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جنہوں نے ماحول، عالمی تحفظ اور ایٹمی اسلحے کے استعمال سے متعلق اپنے بیانات سے دنیا کو ایک غیر محفوظ جگہ بنادیا ہے۔ تاریخ میں پہلا موقع تھا، جب کسی ایک شخص کی وجہ سے اس گھڑی کا وقت آگے بڑھایا گیا تھا۔

قیامت کی گھڑی کو 1947 میں بنایا گیا تھا اور پہلی بار اسے قیامت سے نزدیک ترین 1953 میں کیا گیا ۔ اس وقت یہ گھڑی آدھی رات سے دو منٹ دوری پر تھی یعنی جتنی اب ہے جبکہ 1991 میں یہ سب سے دور یعنی 17 منٹ دور کردی گئی تھی۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جوہری خطرات، عالمی سطح پر سیاسی کشیدگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھ کر گھڑی کی سوئیاں آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ عالمی رہنماءجوہری جنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے موثر ردعمل دینے میں ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے صورتحال ایک سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہوچکی ہے، بلکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک کی تشویشناک ترین صورتحال ہے۔

بیان میں مزید کہا ‘ گزشتہ سال سب سے بڑا خطرہ جوہری ہتھیار کی صورت میں ابھرا، شمالی کوریا کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام 2017 میں حیران کن حد تک آگے بڑھا، جس سے نہ صرف اس کے لیے بلکہ خطے کے دیگر ممالک اور امریکا کے لیے بھی خطرہ بڑھا’۔ بیان کے مطابق اسی طرح موسمیاتی تبدیلیاں زیادہ بڑا فوری خطرہ نظر نہیں آتیں مگر درجہ حرارت میں اضافہ طویل المعیاد بنیادوں پر فوری توجہ کا متقاضی ہے، مگر عالمی ردعمل اس چیلنج کے حوالے سے ناکام نظر آتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top