The news is by your side.

Advertisement

ڈاؤ یونیورسٹی انتظامیہ نے طالبات کے ایڈمٹ کارڈ ردی میں فروخت کردیئے

کراچی : ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی نے طالبات کےایڈمٹ کارڈ ردی میں بیچ ڈالے، طالبات کی تصویروں اورفون نمبرز والےکارڈ لوگوں کے ہاتھ لگ گئے، نامعلوم نمبروں سے فون اورمیسجز آنے لگے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی انتظامیہ کی سنگین انتظامی غلطی سامنے آگئی، انتظامیہ نے انٹری ٹیسٹ کے ایڈمٹ کارڈز ردی میں فروخت کردیئے، طالبات کو نامعلوم نمبروں سے فون آنا شروع ہوگئے۔

 یونیورسٹی انتظامیہ نے سنگین غلطی کا ارتکاب کرتے ہوئے سال2015 میں جاری کیے جانے والے طالبات کے ایڈمٹ کارڈز ردی میں فروخت کردیئے۔

ردی میں فروخت کئے گئے ایڈمٹ کارڈز کی پان فروشوں نے پڑیاں بنا ڈالیں، ان کارڈز پردرج ذاتی معلومات میں طالبات کے فون نمبرز بھی موجود ہیں۔

ایک طالبہ کے ایڈمٹ کارڈ پر ٹھٹھہ میں پان بیچا گیا جس کی اطلاع پان خریدنے والے شخص نے ایک طالبہ کو فون کرکے دی، مذکورہ شخص نے طالبہ کی درخواست پرمزید ایڈمٹ کارڈز کی تصاویر بھی واٹس ایپ پربھیج دیں۔

ان ایڈمٹ کارڈز پر طالبات کی تصاویر، نام، پتہ اور فون نمبر سب موجود ہے، جس کے بعد طالبہ نے سوشل میڈیا پریونیورسٹی کی غفلت بے نقاب کی۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وائس چانسلرڈاؤ یونیورسٹی ڈاکٹر سعید قریشی کا کہنا ہے کہ ردی میں ملنے والے ایڈمٹ کارڈز2015کے ہیں۔

ایڈمٹ کارڈز کی ردی میں فروخت کی تحقیقات کررہےہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال بعد ایڈمٹ کارڈز خود ضائع کرتے ہیں، انہیں فروخت نہیں جاتا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں