The news is by your side.

Advertisement

ڈاوٗن سنڈروم کا شکار ننھی میک اپ آرٹسٹ کی سوشل میڈیا پر دھوم

اسلام آباد : ڈاوٗن سنڈروم کا شکار میک آرٹسٹ کمسن ردا نقوی نے اپنی صلاحتیوں سے سوشل میڈیا صارفین کو حیران کردیا۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ردا زہرا نقوی ڈاوٗن سنڈروم کا شکار ہیں، لاعلاج مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود ردا نقوی ڈاوٗن سنڈروم کا شکار افراد کےلیے روشنی کی کرن بن گئی ہیں۔

ردا زہرا نے اپنی صلاحیتوں سے ثابت کردیا ہے کہ حالات کیسے بھی ہوں مایوسی کو گھر اور دل میں جگہ نہیں دینی چاہیے۔

ردا زہرا سوشل میڈیا پر خوب دھوم مچی ہوئی ہے، ان کی ویڈیوز کو صارفین کی جانب بہت زیادہ پسند کیا جارہا ہے اور اب تک 5 لاکھ کے قریب ویوز اور لائکس آچکے ہیں۔

ننھی میک اپ آرٹسٹ ردا نقوی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنی بڑی بہن سے میک اپ سیکھا ہے اور سب سے پہلے اپنی بہن کا ہی میک اپ کیا تھا۔

ردا زہرا نے بتایا کہ وہ بڑی ہوکر ٹیچر بننے کی خواہش دل میں رکھتی ہیں تاکہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرکے ان کا مستقبل سنوار سکیں۔

ردا نے اے آر وائی کو بتایا کہ انہیں گلوکارہ بننے کا بھی بہت شوق ہے اور وہ اپنی آواز دنیا کو سنانا چاہتی ہیں۔

ڈاوٗن سنڈروم کیا ہے، اس کی وجوہات کیا ہیں اور پاکستان میں ڈاوٗن سنڈروم کے مریضوں کی تعداد کتنی ہے؟

ڈاؤن سنڈروم کو ٹریزومی 21 بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک سنگین جینیاتی نقص ہوتا ہے اور ایسے بچے میں 21 ویں کروموسومز تین گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

اس بیماری کا شکار بچوں میں ذہنی اور جسمانی معذوری مختلف شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ اس کی ظاہری علامت یہ ہوتی ہے کہ بچے کی گردن عام بچوں سے کہیں زیادہ موٹی اور سر بڑا ہوتا ہے۔ مرض کے شکار بچوں کی آنکھیں بھی بہت باہر کو نکلی ہوتی ہیں اور ان کا چہرہ گول ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر 1 ہزار میں سے 1 بچہ ڈاؤن سنڈروم کا شکار ہوتا ہے۔

پاکستان میں ڈاؤن سنڈروم کی مریضوں کی تعداد کا درست تعین نہیں کیا جاسکا، تاہم یہ مرض پاکستان میں موجود ہے۔

خیال رہے کہ 21 مارچ کو جینیاتی نقص کے باعث پیدا ہونے والی ذہنی اور جسمانی معذوری کے حوالے سے شعور اور آگاہی پیدا کرنے کے لیے دنیا بھر میں ڈاؤن سنڈروم ڈے منایا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں