site
stats
عالمی خبریں

ترکی کو روسی طیارہ گرانے پرسنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا، پیوٹن

ماسکو: روسی صدر ولادی میرپیوٹن نے انقرہ کو تنبیہہ کی ہے کہ روسی طیارہ گرانے سے دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کو شدید دھچکا پہنچا ہے اوراس کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

ترکی کی جانب سے اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے روسی طیارے کو مار گرائے جانے پر اپنے شدید ردعمل میں روسی صدر ولادیمر پوٹن نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کا یہ عمل کمر میں چھرا گھوپنے کے مترادف ہے جس کے خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں جبکہ روسی وزیرخارجہ لاروف نے ترکی کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔

سوچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمر پیوٹن کا کہنا تھا کہ ترکی نے روسی طیارہ گرا کر پیٹھ پیچھے سے چھرا گھونپ کر دہشت گردوں کا ساتھ دیا ہے جب کہ اس عمل سے روس کے ترکی کے ساتھ تعلقات پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طیارے کو گرایا گیا وہ ترکی کی سرحد سے ایک کلومیٹر دورشام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہاتھا جب کہ اسے شام کی سرحد کے 4 کلومیٹراندر نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے ترک دفاعی اتاشی کو وزارت دفاع طلب کرکے روسی طیارے کو مار گرائے جانے کی وضاحت طلب کرلی ہے تاہم حکام نے مزید تفصیلات بتانے سے انکارکردیا ۔

واضح رہے کہ آج ترکی ایف 16 طیاروں نے بارہا خبردار کرنے کے باوجود سرحد کی خلاف ورزی کرنے والے روسی طیارے کو مارگرایا تھا تاہم اس حملے طیارے کے پائلٹوں کی ہلاکت سے متعلق مصدقہ اطلاعات سامنے نہیں آسکیں۔

شام کے حکام کا کہنا ہے کہ ان پائلٹس میں سے ایک پائلٹ ہلاک جب کہ دوسرا داعش کے شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے کا خدشہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top