The news is by your side.

Advertisement

‘ڈاکٹر عدنان کا نام فوری ای سی ایل میں ڈالا جائے’

اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات ہونی چاہیں کہ نوازشریف کی طبی رپورٹس کس نے تیار کیں اور اس میں کون کون ملوث تھا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوازشریف کی طبیعت سے متعلق پورا ماحول بنایا گیا اور تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اگر انہیں باہر نہ بھیجا تو ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہوں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اب نوازشریف کی لندن میں سرگرمیوں کی تصاویر سامنے آرہی ہیں جس میں ان کی طبیعت رپورٹس کے مطابقت نہیں رکھتیں، برطانوی اور پاکستان رپورٹس میں زمین آسمان کا فرق ہے دونوں متضاد رپورٹس ہیں، اب تحقیقات ہونی چاہیں کہ کس نے نوازشریف کی رپورٹس تیار کروائیں؟ کیا خون کے نمونے تو تبدیل نہیں کر دیے گئے؟ کون کون ملوث ہے سب سامنے آنا چاہیے، ڈاکٹر عدنان پاکستان میں ہیں اور سب سے پہلے ای سی ایل میں ان کا نام ڈالنا چاہیے کہ کہیں وہ بھاگ نہ جائیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ شہبازشریف پر آمدن سے زائد اثاثوں، منی لانڈرنگ، آشیانہ، پانی اور 56 کمپنیوں والے مقدمات 100 فیصد ٹھیک ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ابھی تک تحقیقات حتمی نتیجے تک کیوں نہیں پہنچ رہے، سب کو پتہ ہے نوازشریف اور شہبازشریف کے خلاف بنے مقدمات اور الزامات ٹھیک ہیں، اس پر کسی کی کوئی دو رائے نہیں اور نہ کسی کو شک ہے مگر عوام کا گلا نظام انصاف سے ہے جس میں اب تک مقدمات کے نتائج نہیں آرہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 1992 کے بعد جتنی کرپشن ہوئی ہے اور اس میں حدیبیہ کا ماڈل فالو کیا گیا، یہ طریقہ کار شریف خاندان نے ایجاد کیا جسے بعد میں پیپلزپارٹی اور دیگر نے اپنایا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں