The news is by your side.

Advertisement

ہر ڈاکٹر نے ڈاکٹر عاصم کی نئی بیماری تجویز کی: عدالت برہم

اسلام آباد: سابق مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم کیس کی سماعت پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر ڈاکٹر نے ڈاکٹر عاصم کی نئی بیماری اور نیا علاج تجویز کیا۔ کوئی کہتا ہے نفسیاتی مسئلہ ہے، کسی نےسرجری کی تجویز دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سابق مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر معالج نے ڈاکٹر عاصم کی نئی بیماری اور نیا علاج تجویز کیا۔ کوئی کہتا ہے کہ نفسیاتی مسئلہ ہے، کسی نے سرجری کروانے کا کہا۔ ایک ڈاکٹر نے تو ہائیڈرو تھراپی کی تجویز دی۔ دیکھنا ہوگا کوئی بیماری ہے بھی یا نہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ پاکستان میں سب سے یکساں سلوک نہیں ہوتا۔ ہر بڑے شخص کو میڈیکل بورڈ بیرون ملک علاج کی تجویز کیوں دیتا ہے۔ جیل میں زیادہ ترمریضوں کو ڈاکٹر عاصم والی بیماریاں ہوں گی۔

عدالت نے چاروں صوبوں کے ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے تمام اسپتال حکومت کے زیر اثر ہیں۔

آزاد میڈیکل بورڈ پر ڈاکٹر عاصم کے وکیل لطیف کھوسہ نے اعتراض کیا۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ایسی روایات نہ ڈالے جو سب کے لیے خطرناک ہو۔ یہ ضمانت کا کیس نہیں تو پاکستان میں کوئی کیس ضمانت کا نہیں ہو سکتا۔

نیب پراسیکوٹر نے درخواست پر سوالات اٹھا دیے۔ پراسیکیوٹر نے کہا ڈاکٹر عاصم جیل سے وہیل چیئر پر عدالت آتے تھے۔ باہر نکلتے ہی جلسوں میں جانے لگے۔ کمر درد کے بہانے باہر جانے والا ایک شخص ڈانس کرتا پایا گیا۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ بیرون ملک ڈانس کرنے والے لیڈر کو پکڑتے ہوئے نیب کے پر جلتے ہیں۔ جسٹس منظور نے لطیف کھوسہ کو کیس تک محدود رہنے کا مشورہ دیا۔

نیب کی ضمانت منسوخی کی درخواست پرنوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 20 جولائی تک ملتوی کردی۔


Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں