The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹر عاصم حسین نے عدالت میں اپنے جرائم کا اعتراف کرلیا

کراچی : ڈاکٹر عاصم حسین نے دہشت گردوں کو پناہ دینے اور ان کا غیرقانونی علاج کرنےکا اعتراف کرلیا،سابق وزیر پیٹرولیم پر کرپشن اور دہشت گردوں کی معاونت کے الزامات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین نے عدالت میں اقبالی بیان ریکارڈ کرادیا انہوں نے آج سٹی کورٹ میں مجسٹریٹ کے روبرو اقبال جرم کرلیا۔

ڈاکتر عاصم کو سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا تھا جہاں انہوں نے اپنے اوپر عائدتمام الزامات پر اقبال جرم کا بیان دفعہ 164کے تحت ریکارڈ کرایا ہے۔

اقبال جرم کے بعد سابق وزیر کو سزا سنائی جا سکتی ہے اور اس ضمن میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔

ڈاکٹرعاصم حسین پر الزام تھا کہ انہوں نے بھاری رقم کے عوض سیاسی رہنماؤں کی ایما پر زخمی ہونے والے دہشت گردوں کا اپنے اسپتال میں علاج کیا جب کہ وہ اپنے دور میں سوئی سدرن میں من پسند ٹھیکیداروں کو رقم کے عوض ٹھیکے دینے اور بھرتیاں کرنے میں ملوث تھے۔

ڈاکٹر عاصم حسین سے 90روز میں 3جے آئی ٹیزنے تفتیش کی ہے جس کے سامنے انہوں نے سنسنی خیز انکشافات کئے ۔جے آئی ٹی ون کے مطابق ڈاکٹرعاصم نے 5اداروں میں 50ارب کی کرپشن کی ہے۔

سابق وفاقی وزیرپٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کو جوڈیشل مجسٹریٹ وسطی کی عدالت میں پیش کیا گیا ،جہاں پولیس نے ان کا 164کے تحت بیان ریکارڈ کیا ,جس میں انہوں نے جرم کا اعتراف کیا ہے۔

چار روز قبل کراچی میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے ڈاکٹر عاصم حسین کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا جس کے بعد انہیں گلبرگ تھانے منتقل کردیا تھا ،جہاں ان کی گرفتاری ظاہر کرکے ان سے تفتیش کی گئی ۔

عدالت سے سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان کی طرف چار روزکا ریمانڈمانگنے پر رینجرز کے خصوصی پراسیکیوٹر حبیب احمد نے اعتراض کیا تھا کیونکہ پولیس اور رینجرز نے عدالت میں 14روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی ،جسے پراسیکیوٹر نے کمرہ عدالت میں تبدیل کردیا تھا ۔

26اگست کو ہائر ایجوکیشن کمیشن سندھ کے دفتر سے رینجرز نے ڈاکٹر عاصم کو تحویل میں لیا تھا ،ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے نجی ہسپتال میں دہشت گردوں کا علاج کیا ہے۔

بدھ کی شب ڈاکٹر عاصم کا رینجرز کی تحویل میں 90 روزہ ریمانڈ پورا ہونے کے بعد انھیں گلبرگ تھانے لایا گیا تھا جبکہ ان کے خلاف نارتھ ناظم آباد کے تھانے میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر عاصم حسین 2009 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سندھ سے سینیٹر منتخب ہوئے اور وہ 2012 تک وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی وسائل رہے۔

ڈاکٹر عاصم حسین کا شمار سابق صدر آصف زرداری کے قریبی رفقا میں ہوتا ہے اور سندھ حکومت نے 2013 میں ان سندھ کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا تھا۔

ڈاکٹر عاصم کے ریمانڈ میں سات یوم کی توسیع 

پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر ڈا کٹر عاصم کے قریبی ساتھی سمجھے جا نے والے ڈا کٹر یوسف ستار کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں یوسف ستار نے اعتراف کیاہے کہ ڈا کٹر عاصم کے ایماءپر ہسپتال میں نہ صرف کہ دہشت گردوں کا علا ج کیاجا تارہا بلکہ دہشت گردوں کو ہسپتال میں پنا ہ بھی دی جا تی تھی۔

ڈاکٹر عاصم کے بیان کے بعد سندھ حکومت میں کھلبلی مچ گئی ہے، جے آئی ٹی میں دیئے گئے بیان کے مطابق ماڈل ایان جیسی بیس پچیس لڑکیاں اور بھی ہیں جو کرنسی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر عاصم کے ریمانڈ میں سات یوم کی توسیع کردی گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں