site
stats
پاکستان

ڈاکٹر عاصم حسین کی انجیو گرافی نہ کی جا سکی

کراچی : ڈاکٹر عاصم حسین کے گردوں میں کریٹینائن اور شوگر بڑھ جانے کے باعث انجیو گرافی نہ کی جا سکی،دوسری جانب رینجرز نے عدالت میں جواب جمع کرایا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کو ہارٹ اٹیک نہیں بلکہ سینے میں تکلیف ہوئی جس کے باعث ہسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق دل میں تکلیف کے باعث اسپتال میں داخل  پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم حسین کے گردوں میں کریٹینائن اور شوگر بڑھ جانے کے باعث انجیو گرافی نہ کی جا سکی ڈاکٹروں کا پینل علاج کے بارے میں حتمی فیصلہ کرے گا۔

رینجرز کی تحویل میں زیر علاج ڈاکٹر عاصم کے گردے میں کریٹنین اور شوگر بڑھی ہوئی ہے۔ جس کے باعث انجیو گرافی نہیں کی گئی۔

امکان ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں ان کی انجیو گرافی کردی جائے گی۔ جبکہ رینجرز کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں  جمع کرا ئی گئی رپورٹ میں  کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کو ہارٹ اٹیک نہیں بلکہ سینے میں تکلیف ہوئی جس کے باعث ہسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔

ان کی میڈیکل رپورٹ میں تمام ٹیسٹ نارمل ہیں ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کے اہلخانہ سے بھی ایسی کوئی تفصیلات نہیں ملی جس سے ظاہر ہو کہ وہ دل کے مریض ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق عدالت کی اجازت کے بعد انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کیا جائے گا۔جواب پیش کرنے کیلئے رینجرز حکام ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین سندھ ہائیکورٹ پیش ہوئے۔

دوسری جانب اسپتال ذرائع کایہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کی طبیعت بہتر ہے اور وہ انجیو پلاسٹی کے بعد صحت یاب ہوجائیں گے ۔

؎ڈاکٹرعاصم کو پیر اور منگل کی رات دل کا دورہ پڑا تھا ، وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور سیئنروزیرنثار کھوڑو نے ڈاکٹر عاصم کی عیادت کی ۔

سندھ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عاصم کے اہلیہ کی درخواست پر رینجرز کو نوٹس جاری کر دیا ہے، پٹیشن میں ڈاکٹر عاصم کی اہلیہ نے استدعا کی ہے، ڈاکٹر عاصم کو قومی ادارہ برائے امراض قلب کراچی سے کہیں اور منتقل نہ کیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top