The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹرعاصم ای سی ایل کیس ، وزارت داخلہ سے ایک ہفتے میں جواب طلب

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے ڈاکٹرعاصم کانام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پروزارت داخلہ سے ایک ہفتےمیں جواب مانگ لیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹرعاصم کانام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، سماعت کے دوران عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنے کے قانون کا اطلاق یکساں ہوتا ہے یا نہیں؟ کیا پسند ناپسند کی بنیاد پر تو نام ای سی ایل میں شامل نہیں کیے جاتے؟۔

اس موقع پر عدالت نے کہا معاملے پر وزارت داخلہ کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کیلئے نو میڈیکل بورڈ بنائے گئے، ہر میڈیکل بورڈ نے الگ بیماری اور علاج تجویز کیا، جس پر وکیل صفائی لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عاصم کو اسپائنل ڈسک ریپلیسمنٹ تجویز کیا گیا، وزارت داخلہ نے شریک ملزمان کے بیرون ملک جانے پر اعتراض نہیں کیا۔

وکیل کے دلائل کے بعد عدالت نے وزارت داخلہ سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا اور سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔


مزید پڑھیں : ہر ڈاکٹر نے ڈاکٹر عاصم کی نئی بیماری تجویز کی: عدالت برہم


یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے سابق وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کی مخالفت کی تھی اور عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ڈاکٹر عاصم بیماری کا بہانہ کر کے ملک سے فرار ہونا چاہتے ہیں۔

اس سے قبل ڈاکٹر عاصم نے 3 مئی کو لندن روانگی کے لیے بک کروایا تھا اور ٹکٹ عدالت میں جمع کروایا تھا اور استدعا کی تھی کہ انہیں علاج کے لیے اہلیہ کے ساتھ لندن روانگی کی اجازت دی جائے جبکہ سندھ حکومت نے بھی ڈاکٹر عاصم کے بیرون ملک سفر پر نو اوبجیکشن لیٹر جاری کردیا تھا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر عاصم کا نام نیب کی درخواست پر ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا، جس کی سندھ ہائیکورٹ نے بھی سفارش کی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں