The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹر عاصم کے مقدمے کی سماعت 19 جنوری تک ملتوی

کراچی: کرپشن اور دہشت گردوں کی معاونت کی الزام میں گرفتار پی پی پی کے سابق وفاقی وزیرڈاکٹرعاصم کے مقدمے کی سماعت 19 جنوری تک ملتوی کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹرعاصم آج انسدادِدہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش ہوئے جہاں عدالت نے مقدمے کی کاروائی 11 دن کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔

عدالت کی جانب سے ڈاکٹر عاصم کے وکلاء کو مقدمے کے گواہان کے بیانات کی نقول بھی فراہم کی گئی ہیں۔ فہرست میں ڈاکٹریوسف ستارکے بیان کا تذکرہ موجود نہیں تھا۔

انسدادِدہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ڈاکٹر عاصم کیس کی سماعت شروع ہوئی تو تفتیشی افسر نے عدالت میں مفرور ملزمان سے متعلق رپورٹ پیش کی تفتیشی افسر ڈی ایس پی الطاف کا کہنا تھا کہ مفرور ملزمان وسیم اختر و دیگر نہیں مل سکے ہیں روف صدیقی عدالت میں پیش ہیں۔

عدالت نے مفرور ملزمان کی عدم گرفتاری اوریوسف ستار کی معلومات کی مکمل آگاہی نہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما روف صدیقی بھی عدالت میں پیش ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم پر بنائے گئے مقدمے جعلی ہیں اصل مقدمے تو پی ٹی آئی ، جماعت اسلامی اور اے این پی پر بننے چاہئیں۔

عدالت نے پاسبان کے رہنما عثمان معظم کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ وہ رینجرز کی جانب سے نوے روز کی تحویل کے بعد عدالتی تحویل میں ہیں۔


چیئرمین سندھ ہائرایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر عاصم حسین زیرِ حراست


عدالت نے ہدایت دیں ہیں کہ ڈاکٹرعاصم کو مناسب اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جائیں، واضح رہے کہ ڈاکٹرعاصم کے وکلاء نے طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عدالت سے استدعا کی تھی۔

ڈاکٹرعاصم حسین کو تین روزقبل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے کیاگیا تھا، نیب کی جانب سے ڈاکٹرعاصم پرمالی بے ضابطتگیوں کے سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن کی تحقیقات جاری ہیں۔

عدالت میں پیشی کے موقع پرڈاکٹرہارون نے ڈاکٹرعاصم حسین کا طبی معائنہ کرنے کےبعد انکی ذہنی صحت کو خستہ قراردیتے ہوئے اسپتال منتقلی کی تجویز دی تھی، انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ڈاکٹر عاصم شدید نفسیاتی دباؤ کا شکارہیں اورخودکشی بھی کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹرعاصم حسین کو گزشتہ برس ماہ اگست میں رینجرز نے دہشتگردی کی معاونت کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور 90روز اپنی تحویل میں رکھا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں