The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹرفیصل سلطان نے 94 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو ناگزیر قرار دے دیا

اسلام آباد : وزیراعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹرفیصل سلطان نے 94 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو ناگزیر قرار دے دیا اور کہا حکومت قیمتیں بڑھانے کے معاملے پر دباؤ میں نہیں آئی، اہم ادویات کی قیمتیں اتنی بڑھائی ہیں کہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔

تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرفیصل سلطان نے دواؤں کی قیمتوں میں اضافے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‌ڈریپ نے94 اہم دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ کیا، 94 ادویات کی قیمتوں میں مناسب اضافہ کیاگیاہے، دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ مجبوری وناگزیر تھا۔

ڈاکٹرفیصل سلطان کا کہنا تھا کہ پرانےفارمولے ولائف دواؤں کی قیمتیں بڑھائی ہیں، فارماکمپنیز قیمتیں نہ بڑھنے پر بعض دواؤں کی پیداوار روک دیتی ہیں، پیداواررکنے پرمارکیٹ میں اہم دواؤں کی قلت ہوجاتی ہے۔

معاون خصوصی برائے صحت نے کہا کہ قیمتوں میں مناسب اضافے سےدواؤں کی دستیابی یقینی بنائی ہے، ڈریپ ملک میں دواؤں کی دستیابی یقینی بنارہی ہے، 94 دواؤں کی قیمتوں میں ڈیڑھ تا 70فیصد اضافہ ہوا، قیمتیں اتنی بڑھائی ہیں کہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت قیمتیں بڑھانے کےدوران دباؤمیں نہیں آئی، نئی ڈرگ پرائسنگ پالیسی ترتیب دے رہے ہیں ، ڈریپ کے پاس دواؤں کی قیمتوں کی مانیٹرنگ کاطریقہ کارہے، فارماکمپنیز قیمتوں میں کمی بیشی پرمن مانی نہیں کرسکتیں۔

ڈاکٹرفیصل نے مزید کہا کہ حکومت نےدواؤں کی قیمتیں بڑھانےسےقبل وجوہات کاجائزہ لیا، نئی ڈرگ پرائسنگ پالیسی شفاف طریقے سے بنائی جائے گی، پرائسنگ پالیسی سے بہت سے مسائل از خود ختم ہوں گے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزارت صحت کےاداروں میں جلدقابل افسران تعینات ہونگے، ایم ٹی آئی بل پر کام جاری ہے ، جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، وزارت صحت میں مستقل سربراہان کی تقرری کاعمل جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ ڈریپ کےنئےسی ای اوکی تقرری جلدعمل میں لائی جائےگی، اسپتالوں میں اصلاحات جدید طریقہ کار کے بغیر ممکن نہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں