The news is by your side.

Advertisement

متحدہ لندن پر پابندی کے آئینی تقاضے پورے کیے جائیں، فاروق ستار

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ حکومت متحدہ قومی مومنٹ لندن پر پابندی کے آئینی و قانونی تقاضے پورے کرے، متحدہ لندن کو الیکشن میں ہرایا تو اسے اپنی کامیابی سمجھوں گا، پی ایس پی کے طریقہ کار اور سوچ سے اختلاف ہے لیکن مصطفیٰ کمال کراچی کی سیاست میں ایک حقیقت ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ”آف دی ریکارڈ“ میں اپنی ڈرامائی گرفتاری و رہائی کے بعد میزبان کاشف عباسی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تمام تر تردید اور وضاحتیں ریکارڈ پر ہیں اس کے باوجود پاکستان مخالف نعروں کی ایف آئی آر ہم پر ہے، حکومت گدھے اور گھوڑے میں تمیز کرے، 22 اگست کو لگنے والے ملک مخالف نعروں کی ایف آئی آر ہماری جماعت کے خلاف کٹوا دی گئی تھی، ہماری 23 اگست کی پوزیشن سب کے سامنے ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جس رات مجھے گرفتار کیا گیا اس وقت مجھے اندھیرے میں محض کاغذ کا ایک ٹکڑا دکھایا گیا اور کہا کہ یہ آپ کے وارنٹ گرفتاری ہیں اورمجھے حراست میں لے کر اہلکار اپنے ساتھ تھانے لے گئے لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد ہی رہا کردیا گیا جبکہ وکلاء سے میری صلاح و مشاورت جاری ہے اور مشاورت مکمل ہونے کے بعد میں خود عدالت پیش ہوجاؤں گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرا سیل کیا ہوا دفتر مجھے واپس ملنا چاہیے اگر نائن زیرو کو ہمارے لیے نہیں کھولا جاتا تو خورشید میموریل ہال کو بحال کرکے ہمیں دیا جائے تاکہ ہم اپنے تنظیمی کام کو احسن طریقے سے کر سکیں، سیاسی ایجنڈا نہیں ہے تو معاملہ حل ہوجانا چاہیے۔

فاروق ستار نے کہا کہ ہمارے پاس نئے دفترقائم کرنے کے لیے کوٹھی یا بنگلہ لینے کے وسائل نہیں، ایم کیوایم پاکستان کے پاس پارٹی فنڈزختم ہوچکے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چھاپے، گرفتاریاں بند نہ کرنے سے ایم کیوایم لندن مضبوط ہوگی اس کے علاوہ لاپتا کارکنان رہا نہ کرنے کا فائدہ بھی ایم کیوایم لندن کو ہوگا، انہوں نے واضح کیا کہ ہماری لندن کے ساتھ ملی بھگت کا پروپیگنڈا ہے، اس میں کوئی سچائی نہیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ سید مصطفیٰ کمال ایم کیوایم مڈل کلاس کی پروڈکٹ ہے، ان کی سیاست بھی کراچی کی ایک حقیقت ہے، پی ایس پی اور ایم کیوایم پاکستان کی سوچ اور طریقہ کار مختلف ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے مفاد میں سب کو تشدد کی راہ ترک کرنا ہوگی، ایم کیوایم حقیقی کی واپسی کا فیصلہ وہ خود بہتر طور پر کرسکتےہیں، عامر خان کی واپسی ایک طریقہ کار کےتحت ہوئی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں