The news is by your side.

Advertisement

فاروق ستارنے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی تحلیل کردی، انتخابات کا اعلان

کراچی : ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اختیارات اور اس کو تحلیل کرتے ہوئے نئے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا اعلان کردیا، انہوں نے کہا ہے کہ بہادرآباد والوں کے تمام اقدامات غیر آئینی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کے ایم سی گراؤنڈ پی آئی بی میں جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی موٹی چارج شیٹ میرے پاس بھی موجود ہے،5فروری سےمسلسل غیر آئینی اجلاس پر اجلاس کئے جارہے ہیں، پارٹی آئین توڑنے کا اب تک ریکارڈ قائم کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کےانتخابی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں، غیرآئینی فیصلے کرکے 6 دن سے پارٹی آئین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، کسی کو شوکاز نہیں، جب چاہا جس کو چاہا پارٹی یا عہدے سے فارغ کردیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے نئے پارٹی انتخابات کرانے کا بھی اعلان کردیا،انہوں نے کہا کہ17فروری کو اسی گراؤنڈ میں ووٹنگ ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ پارٹی سے وڈیروں کو نکالنے کا وقت آگیا ہے، اگران میں ہمت ہے تو نئی پارٹی بنا کر دکھائیں۔

فاروق ستار کا کہنا تھا یہ لوگ ایک طرف تو کہتے ہیں کہ سربراہ اختیار مانگتا ہے، دوسری طرف کہتے ہیں کہ آئین میں ترمیم کرکے اختیارات لے لئے، اگر اختیارات لے لئے ہوتے تو کیا آج ان کی یہ ہمت ہوتی؟ کیا ڈنڈے والاسربراہ ہوتا تو کیا ان کی مجھے نکالنےکی ہمت ہوتی؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ کامران ٹیسوری کا مسئلہ ہوتا تو شب خون نہ مارا جاتا، غیر آئینی طور پر پارٹی سربراہ کا اختیار چھینا گیا، آپ کے قول و فعل میں تضاد ہے، آپ نےخود کامران ٹیسوری کو ٹکٹ دیا ہے، انہوں نے سربراہ کو نہیں ایم کیوایم کے ایک ایک کارکن کو نکالا ہے۔

ان کو اچانک پارٹی کا آئین، اصول اور قواعد وضوابط کیسے یاد آگئے؟ فاروق ستار نے کہا کہ انہیں یہ یقین ہوگیا تھا فاروق ستار کسی کو چائنا کٹنگ کرکے کراچی پر قبضہ نہیں کرنے دینگے اور کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کو دوبارہ سر اٹھانے نہیں دیں گے۔

انہوں  نے کہا کہ میں نے پارٹی میں جاگیرداروں کیخلاف آوازاٹھائی یہ میرا قصور ہے، میں ایم کیوایم کو نظریاتی طور پر1986کی پارٹی بنانا چاہتا ہوں، پارٹی میں نئے آنے والوں کو روکا جاتا ہے،میں نے نئے لوگوں کو متعارف کرایا۔

فاروق ستار نے کہا کہ گھر کی لڑائی گھر کےاندر ہونی چاہیے یہ کہنا کیا میری غلطی تھی؟ بانی کے زمانے کے اختیارات نہیں مانگتا لیکن ممنون حسین بن کر بھی نہیں رہنا چاہتا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں