The news is by your side.

Advertisement

شوہر نے میرے ہاتھوں میں دم توڑا، اہلیہ ڈاکٹر فرقان نے آپ بیتی بتادی

سندھ حکومت ڈاکٹر فرقان کے معاملے کی انکوائری کرائے، ڈاکٹر قیصر سجاد کا مطالبہ

کراچی: کرونا سے جاں بحق ہونے والے ڈاکٹر فرقان کی اہلیہ نے آپ بیتی بتاتے ہوئے کہا کہ شوہر نے میرے ہاتھوں میں دم توڑا۔

تفصیلات کے مطابق کرونا سے جاں بحق ہونے والے ڈاکٹر فرقان کی اہلیہ نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شوہر نے میرے ہاتھوں میں دم توڑا، سندھ حکومت کی جانب سے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

صائمہ فرقان نے کہا کہ شوہر کو جس اسپتال میں لے جاتے کہا جاتا جگہ نہیں ہے، ایمبولینس والا ڈاکٹر فرقان کو جگہ جگہ لے کر پھرتا رہا، کسی اسپتال نے انہیں داخل نہیں کیا، آخر کار انہیں گھر لے آئے۔

ڈاکٹر فرقان کی اہلیہ نے کہا کہ ہم نے اللہ کی خاطر سب کو معاف کیا ہے، میں نے معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے وہ سب دیکھ رہا ہے، میرے شوہر بے بسی کے عالم میں ہمیں چھوڑ کر گئے۔

سندھ حکومت ڈاکٹر فرقان کے معاملے کی انکوائری کرائے، ڈاکٹر قیصر سجاد کا مطالبہ

دوسری جانب ڈاکٹر قیصر سجاد نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر فرقان کے معاملے کی انکوائری کرائی جائے، انڈس اسپتال میں آج میری بات ہوئی وہ کہتے ہیں 8 وینٹی لیٹر فارغ ہیں۔

ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ کسی کو نہیں پتا کس اسپتال میں جانا ہے، جنرل فزیشن تک کو نہیں پتا کس اسپتال میں کرونا مریض رکھے جاتے ہیں، ڈاکٹرز کو بھی نہیں معلوم کرونا مریض کو کہاں بھیجنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طے ہونا چاہئے کوئی بھی اسپتال ڈاکٹرز یا فیملی کے مریضوں کو واپس نہیں بھیجے گا، فرنٹ لائن ورکرز کے لیے اسپتالوں میں 5 فیصد کوٹہ ہونا چاہئے، فرنٹ لائن ورکرز کے اہلخانہ کے لیے اسپتالوں میں جگہ رکھنی چاہئے۔

مزید پڑھیں: کرونا سے متاثرہ ڈاکٹر فرقان کو وینٹی لیٹر نہ ملا، بے بسی کی حالت میں جان دے دی

واضح رہے کہ جنرل فزیشن ڈاکٹر فرقان کرونا وائرس کا شکار ہو گئے تھے، تاہم انھیں وقت پر وینٹی لیٹر نہ ملا اور انھوں نے بے بسی کی حالت میں جان دے دی، کرونا مثبت آنے پر ڈاکٹر فرقان کچھ دنوں سے گھر میں آئیسولیٹ تھے، وہ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز سے ریٹائرڈ تھے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں