The news is by your side.

Advertisement

عمران فاروق قتل کیس : وہ حقائق جنہیں آپ جاننا چاہتے ہیں

اسلام آباد : انسداد دہشت گردی عدالت نے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتلوں خالد شمیم، معظم علی اور محسن علی سید کو عمر قید اور دس دس لاکھ جرمانے کی سزا سنائی، اس کے علاوہ متحدہ بانی سمیت چار مفرور ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دئیے گئے۔

عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے 21 مئی کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ خالد شمیم، معظم علی اور محسن علی سید پر عمران فاروق کو قتل کرنے کی سازش، معاونت اور سہولت کاری کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔

عمران فاروق کو قتل کرنے کا حکم متحدہ بانی نے دیا اور نائن زیرو سے لڑکوں کا انتخاب کیا گیا، عمر قید کے ساتھ تینوں مجرموں کو 10، 10 لاکھ روپے مقتول کے اہلخانہ کو ادا کرنے کی سزا سنائی جاتی ہے۔

اس حوالے سے ملنے والی اطلاعات اور عدالت میں ملزمان اور ان کے وکلاء نے کیا بیانات دیئے، اس کی تفصیلات سے ہم اپنے قارئین کو اس رپورٹ کے ذریعے آگاہ کررہے ہیں۔

عمران فاروق قتل کیس پانچ سال تک چلنے والا یہ اپنی نوعیت کا ایک اہم کیس تھا جس کے حوالے سے ریاست پاکستان کی طرف سے برطانوی حکومت کو تحریری ضمانت بھی دی گئی تھی کہ ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر بھی سزائے موت نہیں سنائی جائے گی اور اسی سلسلے میں ایک صدارتی آرڈیننس بھی لایا گیا تھا۔

یہ ضمانت اس لیے دی گئی تھی کہ برطانیہ نے اس مقدمے سے متعلق اہم شواہد اس شرط پر پر پاکستان کو فراہم کیے تھے کہ جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو سزائے موت نہیں سنائی جائے گی۔ اس حوالے سے برطانیہ کے چیف انویسٹی گیٹر اسٹورٹ گرین اوے نے پاکستان آکر اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

“محسن نے مقتول کو پیچھے سے پکڑا اور کاشف نے اینٹوں اور چھریوں کے وار کیے”

ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو شمالی لندن کے علاقے ایجویئر میں ان کے گھر کے پاس شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب اینٹوں اور چھریوں کے وار کر کے قتل کردیا گیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق دو ملزمان محسن علی سید اور محمد کاشف کامران پہ الزام تھا کہ ان دونوں نے مل کر عمران فاروق کو قتل کیا، محسن علی سید نے مقتول کو پیچھے سے پکڑا اور محمد کامران نے ان پر اینٹوں اور چھریوں کے وار کیے تھے۔

عدالت میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے حکومت پاکستان کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ محسن علی اور کاشف کو برطانیہ بھیجا گیا، تاکہ وہ عمران فاروق کی آواز کو خاموش کرسکیں کیونکہ وہ الطاف حسین کیلئے ایک خطرہ بنتے جارہے ہیں۔

اس کام کیلئے ان دونوں ملزمان کا منصوبہ بندی کے تحت ایک تعلیمی ادارے میں داخلہ کروایا گیا اور اسٹوڈنٹ ویزے پر لندن روانہ کیا گیا۔ جہاں انہوں نے باقاعدہ کلاسز بھی لیں۔

حکومت پاکستان کے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ملزمان عمران فاروق کو قتل کرنے کے بعد سری لنکا فرار ہوگئے جہاں ان کا سہولت کار خالد شمیم پہلے سے موجود تھا۔

“متحدہ قائد نے اپنے خطاب میں خفیہ پیغام دیا”

پولیس کو دیئے گئے ملزم خالد شمیم کے اعترافی بیان کے مطابق جس سے وہ بعد میں مکر گیا تھا، نے کہا کہ وہ ایم کیو ایم کا دیرینہ کارکن تھا، الطاف حسین نے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ کسی کو  میری  پرواہ نہیں کسی بھی دن کوئی گھر واپس جاتے ہوئے پارک میں مجھے قتل کردے گا اور کہا جائے گا کہ یہ قتل کی واردات تھی۔

اس نے بتایا کہ اس خطاب میں ایک خفیہ پیغام  تھا جسے محمد انور نے مجھے بتایا کہ یہ کیا ہے ،کیونکہ عمران فاروق اپنا ایک گروپ بنا رہا ہے جسے روکنا بہت ضروری ہے، اس میسج کو سمجھو۔

واضح رہے کہ عدالت نے تین مجرمان کو سزا تو سنا دی ہے لیکن ان کے علاوہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین، جماعت کے رہنما محمد انور اور افتخار حسین قریشی، محمد کاشف خان کامران بھی مقدمے کے نامزد ملزمان تھے جنھیں اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں