The news is by your side.

Advertisement

10 سال بعد کیس کا فیصلہ ، ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ کا اہم بیان سامنے آگیا

لندن : ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ شمائلہ  کا کہنا ہے کہ مجھےشروع سےاللہ پر یقین تھا، فیصلے سےمتعلق مزید تبصرہ نہیں کرناچاہتی ،اللہ دشمن کوبھی یہ وقت نہ دکھائے۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ شمائلہ عمران فاروق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شوہر کے قتل کیس کے فیصلے پر درعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا دو چیزیں بہت طاقتور ہیں صبر اور وقت ، مجھےشروع سےاللہ پر یقین تھا، جہاں تک فیصلےکی بات ہے جوبھی ہوابہترہے، فیصلے سےمتعلق مزید تبصرہ نہیں کرناچاہتی ، اللہ دشمن کوبھی یہ وقت نہ دکھائے۔

یاد رہے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران فاروق قتل کیس کے تین گرفتار مجرموں معظم، محسن اورخالد شمیم کو عمرقیدکی سزاسنا دی جبکہ بانی ایم کیوایم اور افتخار حسین ، محمد انوراور کاشف کامران کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔

مزید پڑھیں : 10سال بعد ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ، تینوں ملزمان کو عمر قید کی سزا

بعد ازاں تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ثابت ہوا کہ عمران فاروق کو قتل کرنے کا حکم بانی ایم کیوایم نے دیا اور ایم کیو ایم لندن کے دو سینئیر رہنماوں نے یہ حکم پاکستان پہنچایا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سے معظم علی نے قتل کے لیے لڑکوں کا انتخاب کیا اور عمران فاروق کو قتل کرنے کے لیے محسن علی اور کاشف کامران کو چنا گیا جبکہ محسن اور کاشف کو برطانیہ لے جا کر قتل کروانے کے لیے بھرپور مدد کی گئی۔

واضح رہے ڈاکٹر عمران فاروق کوسولہ ستمبر دو ہزار دس کو لندن میں چھریوں کے وارکر کےقتل کیاگیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں