پاکستان کی 76 فیصدآبادی اسلامی بینکاری چاہتی ہے، ڈاکٹر عشرت حسین
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کی 76 فیصدآبادی اسلامی بینکاری چاہتی ہے، ڈاکٹر عشرت حسین

کراچی: سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 76 فیصدآبادی اسلامی بینکاری چاہتی ہے تاہم حکومتی سپورٹ نہ ہونے کے باعث بینکنگ انڈسٹری میں اسلامی بینکاری کا حصہ 10سا ل میں صرف 14فیصد تک پہنچ سکا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے آئی بی اے کے ڈین ڈاکٹر فرخ ، میزان بینک کے صدر عرفان صدیقی ،تکافل پاکستان کے سی ای اور ضوان حسین اور ڈائریکٹر آئی بی اے احمد علی صدیقی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ آئی بی اے کراچی ،لمز اور انٹر نیشنل سینٹر فار ایجوکیشن ان اسلامک فائنانس کے تعاون سے کراچی میں انیس مارچ سے دو روزہ ورلڈ اسلامک فائنانس کانفرنس منعقد کرے گا۔

ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں دنیا بھر سے سترہ اسلامک فائنانس کے ادارے شرکت کریں گے اور پچاس مقررین اس کانفرنس سے خطاب کریں گے، کانفرنس کا مقصدبیرونی دنیا کو یہ بتانا ہے کہ اسلامک فنانس میں پاکستان کا بھی ایک بڑا حصہ ہے۔

سابق گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ حکومتی اسلامک بینکوں کی لیکویڈٹی مشکلات کے حل کیلئے سکوک بانڈز کے اجرا کا باقائدہ شیڈول بنائے حکومت کی توجہ ان دنوں دوسری طرف ہے الیکشن کے بعد امید ہے صورتحال بہتر ہوجائے گی۔مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلامک بینکنگ کیلئے وزارت خزانہ میں علیحدہ سے ایک خصوصی یونٹ بنایا جائے۔

ڈاکٹر عشرت حسین نے اسلامی بینکوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اسلامی بینکاری کا دائرہ غریب طبقے تک بڑھائے جبکہ روایتی بینکرز کو تربیت دے کر اسلامی بینکر بنانے کے بجائے خالص اسلامی بینکرزکی کھیپ تیار کرنی ہوگی۔

اس موقع پرآئی بی اے کے ڈین ڈاکٹر فرخ نے کہا کہ پاکستان میں اسلامک فائنانس کا حب بننے کی پوری صلاحیت ہے۔

سی ای او تکافل پاکستان رضوان حسین کا کہنا تھا کہ ہمارا مشن 2025 تک پاکستان کواسلامک بینکنگ کا حب بنانا ہے جبکہ میزان بینک کے صدر عرفان صدیقی نے کہا کہ سلامک بینکنگ انڈسٹری کے فروغ کیلئے حکومت سہولت کار نہیں بن رہی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں