The news is by your side.

Advertisement

ذہین لوگ کہاں گئے؟

یورپ میں بادشاہت کے نظام کے دوران امرا کا طبقہ ریاست کے تمام شعبوں پر پوری طرح سے حاوی تھا۔ یہ لوگ سیاسی عہدوں پر فائز ہوتے تھے۔

فوج کے اندر اعلیٰ عہدے بھی ان ہی کے لیے تھے، چرچ میں بھی اونچے عہدوں پر ان ہی کا تقرر ہوتا تھا۔ لہٰذا خاندان در خاندان مراعات سے فائدہ اٹھاتے تھے، اور اس تمام سلسلہ میں عام لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی، کیوں کہ تقرر کی وجہ خاندان تھا، ذہانت نہیں تھی۔

چاہے یہ ذہنی طور پر اوسط درجہ کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں، اپنے خاندانی رشتوں اور تعلقات کی وجہ سے ریاست کے تمام عہدے ان کے لیے تھے۔

اس فرق کو ہم اس وقت محسوس کرتے ہیں کہ جب امریکا آزاد ہوتا ہے تو چوں کہ اس کے معاشرے میں کوئی امرا کا طبقہ نہیں تھا، اس لیے ان لوگوں کے لیے جو ذہین، محنتی اور لائق تھے، کام یابی کے تمام مواقع موجود تھے۔

یورپ سے بھی جو غریب اور مزدور یا کسان طبقوں سے لوگ امریکا ہجرت کرکے گئے، انہیں وہاں کام کرنے اور اپنی ذہانت کو استعمال کرنے کے پورے مواقع ملے۔ مثلاً اینڈریو کارنیگی، ایک کاری گر کا لڑکا تھا، جو اسکاٹ لینڈ سے امریکا گیا، اگر یہ وہیں رہتا تو اپنے باپ کے پیشہ کو اختیار کرکے زندگی گزار دیتا، مگر امریکا میں اس کو اپنی ذہانت اور محنت دکھانے کے موقع ملے۔ اور یہ وہاں کا بڑا سرمایہ دار اور صنعت کار بن گیا۔

اس نے خاص طور سے اپنے سرمایہ کو لوگوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا اور شہروں میں جگہ جگہ کتب خانے قائم کیے۔ کارنیگی کی طرح کے اور بہت سے افراد تھے کہ جنہوں نے خاندان کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اپنی ذہانت کے بل بوتے پر کام یابی حاصل کر کے نام پیدا کیا، یہ لوگ سیاست میں بھی آئے اور ان میں اکثر غریب خاندان کے لڑکے ملک کے صدر بنے اور اعلیٰ عہدوں پر رہے۔

پاکستان کے ابتدائی دنوں میں چوں کہ یہاں ہر طبقے کے لوگوں کے لیے تعلیم کی یکساں سہولتیں تھیں، اس لیے پبلک اسکولوں میں امیر و غریب دونوں کے بچّے پڑھتے تھے اور یہ تعلیم یونیورسٹی تک اسی طرح سے بغیر کسی فرق کے تھی، اس لیے ذہین طالب علموں کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ مقابلے کے امتحانوں میں کام یاب ہوجائیں، یا دوسری ملازمتوں کے مقابلہ میں اپنی ذہانت کی بنیاد پر کام یابی حاصل کریں۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نظام میں تبدیلی آتی چلی گئی۔ دولت مند اور امرا کا طبقہ اپنے اثر و رسوخ کو بڑھاتا چلا گیا، انہوں نے اپنے بچّوں کے لیے پرائیویٹ اسکولوں کی ابتدا کردی جو بڑھتے بڑھتے اس قدر مہنگے ہوئے کہ اس میں عام لوگوں کے بچّوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی پبلک اسکولوں کا معیار گرتا چلا گیا، اور سلسلہ یہاں تک پہنچا کہ غریب لوگوں کے بچّوں کے لیے تعلیم کے بعد آگے بڑھنے یا ترقی کرنے کے تمام راستے بند ہوگئے۔

یہاں بھی مواقع ان کے لیے ہیں کہ جن کے پاس سرمایہ ہے، جو اس سے محروم ہیں، چاہے وہ کتنے ہی لائق اور محنتی کیوں نہ ہوں، ان کے لیے معاشرے میں کوئی عزت اور وقار کی جگہ نہیں رہی ہے۔

مراعات سے محروم طبقوں کے لیے زندگی میں اگر کچھ حاصل کرنا ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ذہانت کی جگہ خوشامد سے کام لیں، اور طبقۂ اعلیٰ کے لوگوں کی چاپلوسی کر کے ان سے جو بچ جائے وہ حاصل کرلیں۔

اس کی مثال پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ان جماعتوں کے سربراہ یا تو بڑے جاگیردار ہیں یا سرمایہ دار، انہی بنیادوں پر ان کو سربراہی ملی ہوئی ہے، اس لیے نہیں کہ ان میں کوئی اہلیت یا صلاحیت ہے۔ اب اگر ان کی پارٹی میں باصلاحیت لوگ ہیں، تو پارٹی میں آگے بڑھنے اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ سربراہ کی خوشامد میں مصروف رہیں، کیوں کہ جب یہ اقتدار میں آتے ہیں تو ان ہی افراد کی سرپرستی کرتے ہیں، جو ان کے مصاحب ہوتے ہیں۔ انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ کسی فرد میں کس قدر لیاقت ہے اور وہ پارٹی کے لیے یا اقتدار میں آنے کے بعد ملک و قوم کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

اگر کبھی کسی فرد سے ان کی شان میں گستاخی ہو جاتی ہے، یا وہ اپنی رائے کو آزادی کے ساتھ ظاہر کرتا ہے تو اس کی سزا یہ ہے کہ اسے یا تو پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے یا اسے تمام سرگرمیوں سے علیحدہ کر کے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ لہٰذا اب پاکستان میں عہد وسطیٰ کے امرا اور طبقہ اعلیٰ کی جگہ جاگیردار اور سرمایہ دار خاندان غالب آگئے ہیں اور ان کے خاندانوں کی حاکمیت مستحکم ہوگئی ہے۔

اس پورے سلسلہ میں معاشرے کے ذہین افراد جن کا تعلق عوام یا نچلے طبقوں سے ہے، ان کو محروم کر کے ان کی ذہانت کو ختم کر دیا گیا ہے۔

سیاسی خاندانوں کے اس تسلط کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ وہ افراد بھی کہ جو اپنی محنت اور صلاحیت سے اپنی ذہانت کو تسلیم کراچکے ہیں، جب انہیں معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ملتی تو وہ یا تو خاموش ہوکر گوشہ نشینی اختیار کرلیتے ہیں، یا ملک سے ہجرت کرکے نئے مواقعوں کی تلاش میں باہر چلے جاتے ہیں۔

ذہین افراد اس کمی کے باعث ہم دیکھتے ہیں کہ ملک میں نالائق اور اوسط ذہن کے لوگ آگے آگے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں زوال اور پس ماندگی کے آثار پوری طرح سے ظاہر ہورہے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ ایک طرف تو امریکا اور یورپ کے ملک باصلاحیت اور ماہرین کی تلاش میں ملک ملک گھومتے ہیں، مگر ہمارے ہاں باصلاحیت لوگ اپنے ہی حکم رانوں کے ہاتھوں محرومی کا شکار ہورہے ہیں۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب ذہانت کو نظر انداز کیا جائے گا تو ایسا معاشرہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکے گا۔ یورپ میں جمہوری روایات نے امرا کے خاندان کے تسلّط کو توڑا اور ذہین لوگوں کے لیے راہ ہموار کی، ہمارے ہاں بھی اس کی ضرورت ہے، مگر اس کام کو کون کرے گا؟

(ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب “تاریخ کی گواہی” سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں