The news is by your side.

Advertisement

”زندگی کو خطرہ ہے، جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں“

پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نوابشاہ کی طالبہ ڈاکٹر پروین کا کہنا ہے کہ میری زندگی کو خطرہ ہے، جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

طالبہ پروین رند نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، انہیں فوری گرفتار کیا جائے اور شفاف انکوائری کرائی جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز یونیورسٹی کی طالبہ کو ہراساں اور اس پر تشدد کرنے کے معاملے پر سندھ حکومت نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے 3 رکنی ٹیم تشکیل دے دی۔

کمیٹی پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نواب شاہ میں طالبہ کے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔ ڈی جی ہیلتھ سروسز سندھ ڈاکٹر محمد جمن کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔ ڈپٹی ہیلتھ سروسز شہاب الدین اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ممبر ہوں گے۔

3 رکنی ٹیم کل سے تحقیقات کا آغاز کری گی۔ کمیٹی کو 3 دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کمیٹی تمام ملوث عملے اور متاثرہ طالبہ کے بیانات قلمبند کرے گی۔ کمیٹی ثبوت اکٹھا کر کے رپورٹ وزیر صحت سندھ کو پیش کرے گی۔

واضح رہے کہ پیپلز میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ پروین بلوچ نے ڈائریکٹر غلام مصطفے راجپوت پر ہراسمنٹ کا الزام عائد کیا جبکہ یونیورسٹی کی ورڈرن فرین اور عاتکا پر تشدد کا الزام عائد کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں