کئی ہزار پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر روحینہ حسن کی آپ بیتی خاموش لاشوں سے سچ اگلوانے، انسانی نفسیات کی گہرائی اور موت کے بھیانک مناظر کے ساتھ زندہ رہنے کی کہانی ہے۔
اس خبر کے مندرجات بعض افراد کے لئے تکلیف دہ ہوسکتے ہیں۔ کمزور دل افراد نہ پڑھیں
اس طرح کے ڈاکٹرز ایسی لاشوں، جن میں حادثات، قتل اور خودکشی کے واقعات شامل ہیں کا معائنہ کرکے ان کی موت کی اصل وجہ تلاش کرتے ہیں۔
ایک ایسی ہی معالج کراچی کی معروف ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر روحینہ حسن بھی ہیں جو قانونی اور فرانزک میڈیسن کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
ان کی خدمات خاص طور پر حساس کیسز، جیسے کہ کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات میں پوسٹ مارٹم اور میڈیکولیگل رپورٹس تیار کرنے کے لیے حاصل کی جاتی ہیں۔
جلی کٹی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرنے والی ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر روحینہ حسن نے ’نکتہ‘ سے بات کرتے ہوئے اپنی ملازمت کے دوران پیش آنے والے دردناک تجربات اور واقعات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنی زندگی میں ہزاروں پوسٹ مارٹم کیے ہیں، اتنے کہ اب ٹھیک سے گنتی بھی یاد نہیں مگر کچھ کیسز ہمارے دلوں کو بھی دہلا دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بم دھماکوں کے کیسز سب سے زیادہ دل دہلا دینے والے ہوتے ہیں۔ مجھے آج بھی ایم اے جناح روڈ پر بم دھماکے کا وہ واقعہ یاد ہے، جہاں ہر طرف لاشیں اور زخمی لوگ تھے۔
ایک خاتون کی لاش کے سینے پر روٹی رکھی ہوئی تھی، شاید اسے وہ تقسیم کر رہی تھیں۔ جب میں نے وہ روٹی ہٹائی تو ان کے جسم میں ایک بڑا سا سوراخ نظر آیا وہ ایسا منظر ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
ماضی کے مشہور زمانہ اسماء نواب کیس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ میں نے ملزمہ کی مقتولہ ماں کا پوسٹ مارٹم کیا تھا یہ واقعہ کبھی نہیں بھولتا ایک 16 سالہ لڑکی نے اپنے ہی والدین اور بھائی کو قتل کر دیا تھا۔
جب میں نے اس کی ماں کا پوسٹ مارٹم کیا تو اس کا گلا کٹا ہوا تھا، میں نے اس لڑکی سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تم گھر سے نکل کر بھی تو شادی کرسکتی تھیں لیکن اس کے پاس سوائے خاموشی کے کوئی جواب نہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا کیس بھی آیا جس میں ایک عورت نے اپنے شوہر کو قتل کرکے اس کے جسم کے ٹکڑے کیے یہاں تک کہ انہیں پکا بھی دیا۔
جب میں نے اس سے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ اسی کے قابل تھا، اس کے ساتھ اس سے بھی برا ہوتا تو مجھے خوشی ہوتی۔
پھر ایک دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا، ایک بچی نے مجھے بتایا کہ کیسے اس کے والد نے اسے بچانے کے لیے خود کو گولیوں کے سامنے کر دیا، اس نے بتایا کہ وہ خاموشی سے چھپ کر بیٹھی رہی اور اپنے والد کا خون اپنے اوپر گرتا دیکھتی رہی۔ یہ بات سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔
بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کے سانحے کے بارے میں ڈاکٹر روحینہ حسن نے بتایا کہ لاشیں اس قدر جھلس چکی تھیں کہ ان کی پہچان تک ممکن نہیں تھی۔ ہمیں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے لاشوں کی شناخت کرنا پڑی۔
یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد میں یہ ضرور کہوں گی کہ فارنزک سائنس صرف لاشوں کا معائنہ نہیں، بلکہ انسانیت کے تاریک پہلوؤں کا سامنا کرنا ہے، کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کبھی نہیں بھرتے وہ ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔


