site
stats
پاکستان

بھارتی شہری ڈاکٹر عظمیٰ کی ایک اور غلط بیانی سامنے آگئی

اسلام آباد: بھارتی شہری ڈاکٹر عظمیٰ اور پاکستانی شخص طاہر علی کی محبت کی کہانی میں ڈاکٹر عظمیٰ کا ایک اور جھوٹ سامنے آگیا۔ عظمیٰ بھی پہلے سے شادی شدہ نکلی۔

تفصیلات کے مطابق بھارت سے آنے والی ڈاکٹر عظمیٰ کی اپنی 6 سالہ بیٹی کے ہمراہ تصاویر منظر عام پر آگئیں۔

ڈاکٹر عظمیٰ نے اس سے قبل اپنے شوہر طاہر پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے انہیں اپنی پہلی شادی اور بچوں سے بے خبر رکھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستانی شہری طاہر سے ان کی پہلی شادی ہے تاہم اب پہلے شوہر سے ان کی بیٹی منظر عام پر آچکی ہے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر بونیر کے رہائشی طاہر علی کی دوستی ملائیشیا میں ہوئی تھی جو محبت میں بدل گئی۔ کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر عظمیٰ، طاہر سے شادی کرنے کے لیے واہگہ بارڈر سے پاکستان پہنچیں جس کے بعد دونوں کا نکاح انجام پایا۔

مزید پڑھیں: پاکستانی شہری نے گن پوائنٹ پر نکاح کیا: بھارتی خاتون کا الزام

دو روز بعد ڈاکٹر عظمیٰ طاہر کے بھارتی ویزے کی درخواست لیے 2 روز بھارتی ہائی کمیشن گئیں جہاں سے وہ منظر سے غائب ہوگئیں۔

تاہم اگلے ہی دن وہ منظر عام پر آگئیں اور انہوں نے اپنا بیان بدلتے ہوئے کہا کہ ان سے گن پوائنٹ پر نکاح کروایا گیا۔

مقامی عدالت میں درخواست دائر کرنے کے بعد انہوں نے مبینہ شوہر پر گن پوانئٹ پر نکاح کے ساتھ ساتھ زیادتی اور تشدد کا الزام بھی لگا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ طاہر نشہ آور ادویات دے کر واہگہ بارڈر سے پاکستان لایا۔

ان کے مطابق وہ بہت مشکل سے ہائی کمیشن پہنچی ہیں اور یہاں پہنچ کر انہوں نے پناہ لے لی، اب وہ دہلی جانے تک یہیں رہیں گی۔

تاہم ایک روز قبل ان دونوں کے نکاح کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی جس میں ڈاکٹر عظمیٰ کو بخوشی اور پورے ہوش و حواس کے ساتھ نکاح کے لیے ہامی بھرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی ڈاکٹر عظمیٰ کے نکاح کی ویڈیو سامنے آگئی

ڈاکٹر عظمیٰ کی ولدیت میں بھی تضاد ہے۔ عدالت میں جمع کروائے گئے ان کے بیان میں ولدیت صغیر احمد جبکہ ویزے اور نکاح نامہ میں ولدیت نوشاد درج ہے۔

دوسری جانب دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ کے معاملے پر بھارتی ہائی کمیشن سے رابطے میں ہیں۔ اس معاملے پر قانونی مراحل طے کیے جائیں گے۔

ترجمان کے مطابق قانون کارروائی مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر عظمیٰ کو ان کے وطن واپس روانہ کردیا جائے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top