ایبٹ آباد : ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں ملزمہ ردا کے مختلف ناموں سے 16 اکاؤنٹس کے غیر قانونی استعمال کا انکشاف ہوا، اکاؤنٹس کے ذریعے 70 تولہ سے زائد سونا بینکوں میں رکھوایا۔
تفصیلات کے مطابق پولیس کی تفتیشی ٹیم کی جانب سے ڈاکٹر وردہ قتل کیس کی تحقیقات جاری ہے، ذرائع نے بتایا کہ ملزمہ ردا کا مختلف ناموں سے 16 اکاؤنٹس کا غیر قانونی استعمال منظر عام پر آگیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ ملزمہ ردا نے مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے 70 تولہ سے زائد سونا بینکوں میں رکھوایا اور اکاؤنٹس کے ذریعے سونا رکھوا کر 2کروڑ روپےسے زائد قرض حاصل کیا۔
ذرائع نے کہا کہ جن افراد کے ناموں پر سونا جمع کیا گیا، ان میں 8 اکاؤنٹ مردوں،7خواتین کے نام پر ہیں جبکہ ملزمہ نے اپنے نام پر زیورات کے عوض صرف 12 لاکھ کا قرض حاصل کر رکھا ہے تاہم پولیس کی جانب سے معاملے کےتمام پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں : ڈاکٹر وردہ کے قتل کا سودا کتنے روپے میں کیا گیا ؟سنسنی خیز انکشاف سامنے آگیا
یاد رہے ڈاکٹر وردا کو ان کی دوست ریدہ نے 4 دسمبر 2025 کو بینظیر شہید ڈسٹرکٹ ہسپتال، ایبٹ آباد سے اغوا کیا، اور بعد میں ان کے ساتھیوں ندیم، پرویز اور شمرائز کی مدد سے قتل کر دیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ قتل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور اس کی وجہ سونے کی لالچ تھی۔ مقتولہ ڈاکٹر نے دو سال قبل ریدہ کو سونا دیا تھا، جسے واپس کرنے سے ریدہ نے انکار کر دیا تھا۔ مسلسل مطالبات کے بعد، ردا نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر قتل کا منصوبہ بنایا۔
واقعے کے دن ردا ڈاکٹر وردہ کو اپنے زیر تعمیر گھر لے گئی ، جہاں شمرائز، ندیم اور اورنگ زیب انتظار کر رہے تھے، ندیم نے مبینہ طور پر ڈاکٹر کو بے دردی سے قتل کیا۔
مقتولہ کے والد نے مقامی پولیس کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اہم ملزم ابھی بھی فرار ہے اور حکام تعاون کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ڈاکٹر وردہ دو بچوں کی والدہ تھیں اور اپنے والد مشتاق اور بچوں کے ساتھ رہتی تھیں، جبکہ ان کے شوہر راحیل علی رضا کام کی غرض سے جنوبی کوریا میں مقیم تھے۔


