پیر, جنوری 19, 2026
اشتہار

مقتولہ ڈاکٹر وردہ کے والد کا پولیس کارروائی پر عدم اعتماد کا اظہار

اشتہار

حیرت انگیز

ایبٹ آباد : خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں قتل ہونے والی مقتولہ ڈاکٹر وردہ کے والد نے پولیس کارروائیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔

مقتولہ کے والد محمد مشتاق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایبٹ آباد پولیس ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہی، مرکزی قاتل آج بھی سرعام گھوم رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اب تک ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا، پولیس وزیراعلیٰ کے ماتحت ہے لیکن ملزم تاحال گرفتار نہیں ہوسکا۔

مقتولہ ڈاکٹر وردہ کے والد نے کہا کہ سہیل آفریدی کی بھی فیملی ہے،ان کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے، آج سہیل آٖفریدی وزیراعلیٰ ہیں کل نہیں ہوں گے، ملزم گرفتار کیا جائے۔

واضح رہے کہ ایبٹ آباد کی پولیس نے ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں مرکزی ملزمہ اس کے شوہر اور دو دیگر ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کرکے تین روزہ ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔

ایبٹ آباد سے چار دسمبر کو لاپتا ہونے والی ڈاکٹر وردہ کی لاش اسی ضلع کے نواحی علاقے سے برآمد ہونے کے بعد تفتیش کاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی ایک قریبی دوست نے انہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر قتل کیا ہے۔

مزید پڑھیں : وردہ کے قتل کا مقدمہ ایس ایچ او زبیر تنولی کیخلاف درج کیا جائے، والد کی فریاد

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ڈاکٹر وردہ کے والد نے فریاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری بیٹی کے قتل کا مقدمہ ڈی ایس پی کینٹ ایس ایچ او زبیر تنولی کیخلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

مقتولہ ڈاکٹر کے والد نے کہا کہ ایس ایچ او نے پیسے لے کر سست روی کا مظاہرہ کیا، پولیس کے پاس چکر لگاتے رہے کوئی شنوائی نہیں ہوئی بالآخر بیٹی کی لاش ملی۔

مقتولہ کے والد نے کہا کہ ڈاکٹر وردہ جس دن غائب ہوئی پولیس کو اسی روز درخواست دے دی تھی، پولیس کو بتایا تھا ڈاکٹر وردہ اپنی سہیلی ردا کے پاس سونا لینے گئی تھی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں