The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں کرونا وائرس کے 94 مستند کیسز ہوچکے ہیں، ظفر مرزا

اسلام آباد: معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے 94 مستند کیسز ہوچکے ہیں، وزارت قومی صحت سے جاری کردہ اعدادوشمار مستند تصور ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس 147 ملکوں تک پھیل چکا ہے، پاکستان میں آج تک کرونا وائرس کے 94 مستند کیسز ہوچکے ہیں، جو زائرین واپس لوٹے انہیں کچھ عرصہ تفتان میں رکھا گیا پھر صوبے میں بھیجا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے زائرین کو سکھر میں رکھا اور ٹیسٹ کیے، سندھ حکومت نے جو ٹیسٹ کیے ان کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں، پریشانی نہیں ہونی چاہئے، معاملات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ظفر مرزا نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں جو بھی فیصلے ہوئے تھے ان پر عملدرآمد جاری ہے، وزیراعظم عمران خان صورتحال کو خود بھی مانیٹر کررہے ہیں، وزیراعطم کی زیر صدارت اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لیا گیا، حکومت کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

معاون خصوصی برائے صحت نے کہا کہ کرونا ٹیسٹنگ کٹس سے متعلق ہمیں بہت مدد ملی ہے، پاکستان میں 14 لیبارٹریز ایسی ہیں جہاں ٹیسٹنگ کٹس دی جارہی ہیں، حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ٹیسٹنگ کٹس مفت فراہم کی جارہی ہیں۔

ظفر مرزا نے کہا کہ شک دور کرنے کے لیے لوگوں کو ٹیسٹ کرانے کی ضرورت نہیں ہے، زکام، کھانسی اور سانس میں دشواری پر ٹیسٹ کرائے جاسکتے ہیں، شک دور کرنے کے لیے لوگوں کو ٹیسٹ کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بیرون ملک سے واپس آنے والوں میں بھی علامات ہوتی ہیں، وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے متاثرہ لوگ دیگر لوگوں سے الگ رہیں، ٹریول ہسٹری، علامات کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے ٹیسٹ کرائیں۔

ظفر مرزا نے کہا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ کچھ پرائیویٹ لیبارٹریز بھی ٹیسٹ کررہی ہیں، کچھ لیبارٹریز کے پاس ٹیسٹنگ کٹس ہیں لیکن کچھ کے پاس نہیں ہیں، جن کے پاس ٹیسٹنگ کٹس نہیں وہ بھی ٹیسٹ کرکے پیسے لے رہی ہیں، جن لیبارٹریزکے پاس ٹیسٹنگ کٹس ہیں ان کی تفصیلات جلد جاری کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے 78 ہزار افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو پوری قوم نے مل کر حل کرنا ہے، مل کر کام نہیں کریں گے تو اس بیماری کا پھیلاؤ نہیں روک سکتے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں