The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں کینسر کا سبب بننے والی دوا ’زینٹیک ‘پرپابندی

کراچی: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے ملک بھر میں کینسر کا سبب بننے کے خدشات کی بنیاد پر خام مال رائینی ٹیڈائن سے تیار کی جانے والی زینٹیک نامی دوا کی فروخت پر پابندی کے بعد بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے اس معاملے کی مزید چھان بین کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے انچارج ڈاکٹر عاصم رؤف کا کہنا ہے کہ امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے زینٹک نامی دوا میں کینسر کا سبب بننے والے اجزاء کی موجودگی کے بعد ہم نے اس دوا کو پورے پاکستان سے فوری طور پر اٹھوا لیا ہے، ڈریپ کے انسپکٹرز اور ٹیمیں پوری طرح صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں، صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز کے ساتھ مل کر ادویات کی فروخت اور ان معیار کو بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، مریضوں کا تحفظ ڈریپ کی پہلی ترجیح ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو میڈیکیشن سیفٹی پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، کانفرنس کا انعقاد پاکستان سوسائٹی آف ہیلتھ سسٹم فارماسسٹس نے کیا تھا جس سے پی ایچ ایس پی کے سربراہ عبد الطیف شیخ، بین الاقوامی ماہر ادویات پروفیسر میرین ایف آئی وی، عمیمہ مزمل سمیت ملک کے معروف فارماسسٹس اور پروفیسرز نے کیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عاصم رؤف کا کہنا کہ ان ادویات کی فروخت پر پابندی یقینی بنانے کے لیے ڈریپ صوبوں کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر عاصم رؤف نے میڈیا کو بتایا ڈریپ نے ملک بھر میں کام کرنے والی دواساز کمپنیوں کو رینیٹیڈائن سے بننے والی زینٹیک سمیت دیگر ادویات کی پیداوار اور فروخت سے روک دیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹرشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ دوا کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔ عاصم رؤف کا کہنا تھا کہ ڈریپ نے گزشتہ پانچ سالوں میں ایسی دس ادویات پر پابندی عائد کی ہے جن پر بین الاقوامی اداروں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ جن ادویات کی شکایت موصول ہوتی ہے عالمی اداروں سے ان کی جانچ کروائی جاتی ہے، ڈریپ کی مانیٹرنگ ٹیمیں باقاعدگی سے ادویہ ساز کمپنیوں کا معائنہ کرتی ہیں۔

دوسری جانب انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کہ ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں ڈاکٹروں اور دوا ساز کمپنیوں کے لیے ضابطہ اخلاق کی تیاری اور اس کا جلد نفاذ شامل ہے، بین الاقوامی ماہر ادویات پروفیسر میرین نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر ادویات کے نتیجے میں ہونے والی اموات اور چیلنجز کا ذکر کیا ان کا کہنا تھا کہ ان چیلنجز میں ادویات کی کمی، قوانین کا نہ ہونا یا غیر موثر ہونا اور دیگر مسائل شامل ہیں، انہوں نے اس موقع پر ڈاکٹروں کو تجویز دی کہ وہ ادویات کے برانڈز کے بجائے ان کے فارمولے یا جینرک ناموں سے دوا تجویز کریں۔

پاکستان میں پانچ لاکھ سے زائد افراد دواؤں کے غلط استعمال سے جاں بحق ہو جاتے ہیں، آئے روز کسی دوا کے غلط استعمال یا دوا کی زیادتی سے جاں بحق اور معذور ہونے والے افراد کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، جو اس بات کا تقاضہ کرتی ہیں کہ پاکستان میں ادویات کو عام کھانے پینے کی اشیاء کی طرح فروخت اور استعمال نہ کیا جائے، ان کا کہناتھا کہ اس کانفرنس کا مقصد ادویات کے محفوظ استعمال کو فروغ دینا ہے تاکہ انسانی جانوں کو ناصرف بچایا جا سکے بلکہ ادویات کے غلط استعمال سے ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں