اسلام آباد (17 جنوری 2026): ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے لائسنسنگ کا پروسیسنگ کا دورانیہ سالوں سے دنوں تک کم ہوگیا۔
اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ ڈاکٹر عبیداللہ نے مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کیلیے بین الاقوامی تعاون کے فروغ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ میں اصلاحات کے نتیجہ میں انقلاب رونما ہوا ہے اور لائسنسنگ کی ڈیجیٹلائزیشن کے اقدام سے سالوں کا کام اب دنوں میں مکمل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی ڈیجیٹل اپروچ نے لائسنسنگ اور منظوری کے عمل کو نمایاں طور پر تیز کر دیا ہے جس سے دورانیہ بھی دنوں تک محدود ہوگیا، اس کام کے مکمل ہونے میں کئی سال لگتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سکون آور اور دردکش ادویات سے متعلق ڈریپ کا اہم فیصلہ
حکومت کی حمایت پر اظہار تشکر کرتے ہوئے چیف ڈریپ نے کہا کہ حکومت کی حمایت نے ڈریپ کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ریگولیٹری عمل اور خدمات کو مزید بہتر بنانے کیلیے اتھارٹی کے عزم کو بھی دوہرایا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈریپ اب معیاری ادویات تک بہتری رسائی فراہم کرنے کے قابل ہے جبکہ منظوری کی ٹائم لائنز میں بھی کافی بہتری آئی ہے جس سے تاخیر کا خاتمہ ہوا ہے جو پہلے ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس تبدیلی سے ڈریپ کی مجموعی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے اور عوام کیلیے اہم ادویات کی بروقت دستیابی بھی یقینی ہوئی ہے۔
مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے حوالے سے ڈاکٹر عبید اللہ نے کہا کہ پاکستان میں ویکسین کے اجزا کا معیار بہتر ہو رہا ہے اور ویکسینز کی دستیابی کو مزید بہتر بنانے کی کاوشیں جاری ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ صوبائی اور بین الاقوامی حکومتوں کے تعاون سے پاکستان مقامی سطح پر ویکسین تیار کرنے کی صلاحیت کو ترقی دینے کے قریب تر ہے، اس شراکت داری کا مقصد ویکسینز کی سپلائی چین کا استحکام اور صحت کی دیکھ بھال میں زیادہ سے زیادہ خود انحصاری کو یقینی بنانا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


