The news is by your side.

Advertisement

صرف 800 روپے میں کورونا ٹیسٹ کرنے والی کٹ 2 ماہ بعدبھی منظور نہ ہو سکی

لاہور : پنجاب یونیورسٹی کی صرف 800 روپے میں کورونا ٹیسٹ  کرنے والی کٹ 2 ماہ سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی منظوری کی منتظر ہے جبکہ ویکسین کی تیاری کے لئے آلات کی خریداری کا اشتہار بھی روک دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسرز نے کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرنے کے لئے سب سے سستی ڈائگناسٹک کٹ بنائی تھی، جس کو دو ماہ قبل منظوری کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے پاس بھجوایا گیا تھا۔

وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر نیاز کا کہنا ہے کہ یہ اب تک کی سب سے سستی ڈائگناسٹک کٹ ہے، جو 9000 روپے کے بجائے صرف 800 روپے میں کرونا ٹیسٹ کرسکتی ہے۔ لیکن ڈریپ کی طرف سے انہیں نظرانداز کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کا کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کے لئے آلات کی خریداری کا اشتہار بھی روک دیا گیا ہے، پنجاب یونیورسٹی نے 20 اپریل کو کرونا وائرس کی سستی ڈائیگناسٹک کٹ کی منظوری کے لئے خط ڈریپ کو خط لکھا تھا تاہم ڈریپ حکام اور حکومت پنجاب نے سستی ڈائیگناسٹک کٹ کی منظوری کو لٹکا دیا۔

خط میں پنجاب یونیورسٹی کی تجرباتی کٹ کی منظوری کے لئے ٹرائل کی درخواست کی تھی لیکن پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے تجرباتی کٹس کی فراہمی کے باوجود ٹرائل شروع نہ ہو سکے اور ٹرائل شروع نہ کرنے پر پنجاب یونیورسٹی حکام کا ڈریپ سے دوبارہ رابطہ کیا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کی شکایت پر فیڈرل ڈرگ انسپکٹر نے ڈپٹی ڈائریکٹر فارمیسی سروسز ڈریپ کو خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سستی ڈائیگناسٹک کٹ کے ٹرائل کے لئے کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا اور کرونا ڈائیگناسٹک کٹ کی منظوری کے لئے محکمہ صحت پنجاب بھی کوئی جواب نہیں دے رہی۔

پنجاب یونیورسٹی نے 2 جون کو ویکیسین کی تیاری کے لئے آلات خریدنے کے لئے اشتہار شائع کرنے کی درخواست کی تھی، ایمرجنسی اشتہار شائع نہ ہونے پر پنجاب یونیورسٹی نے 12 جون کو دوبارہ اشتہار کی اشاعت کے لئے خط لکھا لیکن 19 روز گزرنے کے باوجود کرونا وائرس کی ویکسین کے لئے آلات کی خریداری کا اشتہار شائع نہیں ہوسکی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں