The news is by your side.

Advertisement

1 لاکھ میں ڈرائیونگ لائسنس بنانے والے جلعساز سرگرم، خواتین ہوشیار

ریاض : سعودی پولیس نے عوام کو جلعسازوں سے بچنے کا انتباہ جاری کردیا، جو خواتین کو 25 سو ریال میں گھر بیٹھے ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی یقین دہائی کراکر لوٹ رہے ہیں۔

عرب خبر رساں ادارے کے کی رپورٹ کے مطابق ٹریفک پولیس کے ذرائع نے خبر دار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین کو دھوکہ دے کر ڈرائیونگ لائسنس نکلوانے کے دعویدار جھوٹے ہیں۔ خواتین ایسے کسی اشتہار یا ترغیب کا شکا ر نہ ہوں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لیے مقررہ کورس کرنا لازمی ہے۔

مشرقی ریجن میں ٹریفک پولیس نے سلامتی کمیٹی کے نگران ڈاکٹر عبدالحمید نے کہا کہ مقررہ کورس پاس کیے بغیر ڈرائیونگ لائسنس حاصل نہیں کیا جا سکتا، بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ محض اسٹیئرنگ پر بیٹھ کر ڈرائیونگ کے بارے میں معمولی معلومات حاصل کرلینا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کو ڈرائیونگ پر عبور ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا ایسی خواتین جن کے پاس غیر ملکی ڈرائیونگ لائسنس ہے وہ بھی مقررہ امتحان دے کر ہی سعودی ڈرائیونگ لائسنس حاصل کریں۔

انہوں نے غیر قانونی طریقوں یا بیک ڈور سے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کو انتہائی خطرناک عمل قرار دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ’ٹریفک پولیس اپنے ملک کا ڈرائیونگ لائسنس رکھنے والی خواتین کے لیے سعودی ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کی مدت کو کم کرے‘، دریں اثنا مکہ اخبار کے مطابق سوشل میڈیا پر جعلساز پھر سرگرم ہوگئے۔

ایسےاشتہارات پھیلا رہے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ گھر بیٹھے دو ہزار ریال میں سعودی ڈرائیونگ لائنس حاصل کریں۔ ان اشتہارات میں جعلساز امیدوار کے پاسپورٹ کی فوٹو کاپی، دو تصاویر اور دو ہزار ریال کا مطالبہ کرتے ہیں۔

عرب خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ یہ جعلساز قریبی عرب ملک کا لائسنس دو ہزار ریال میں فروخت کر رہے ہیں، اس لائسنس کو ایک سال کے اندر سعودی لائسنس میں تبدیل کرایا جا سکتا ہے، اس دوران گاڑی چلانے کی اجازت ہوتی ہے۔

مکہ اخبار نے سوشل میڈیا پر ایک جعلساز سے صارف بن کر لائسنس کے حصول کے لیے بات کی تو اس نے ڈھائی ہزار ریال میں پانچ دن کے اندر لائسنس گھر بیٹھے دینے کی یقین دہانی کرائی اور ٹوکن منی کے طور پر پندرہ سو ریال طلب کیے۔

جعلساز نے مزید کہا کہ امیدوار خاتون کو کوئی ٹیسٹ دینے کی زحمت نہیں کرنا پڑے گی بلکہ وہ کسی اور کو ٹیسٹ دینے کے لیے بھیج دیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں