The news is by your side.

Advertisement

کابل ڈرون حملے میں امریکا نے داعش کے منصوبہ ساز کو مارا تھا یا کسی اور کو؟

واشنگٹن: امریکی اخبار نے کابل ڈرون حملے کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار نے افغان دارالحکومت کابل میں امریکی ڈرون حملے کا بھانڈہ پھوڑ دیا، جس سے امریکی جھوٹ بے نقاب ہو گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 28 اگست کو کابل ڈرون حملے میں دہشت گرد نہیں بلکہ ایک انجینئر مارا گیا تھا، جو ایک امریکی این جی او ہی کا ملازم تھا۔

امریکی اخبار نے لکھا کہ حملے میں ہدف بننے والی گاڑی افغان انجینئر زیماری احمدی کی تھی اور زیماری احمدی گاڑی میں پانی لایا تھا جسے دھماکا خیز مواد سمجھ لیا گیا، گاڑی میں ان کے ساتھ ڈرون حملے میں 7 بچے بھی جاں بحق ہو گئے تھے۔

زیماری احمدی نے امریکا میں پناہ کے لیے درخواست بھی دی تھی، ڈرون حملے کے بعد امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ بغیر پائلٹ طیارے سے کابل ایئر پورٹ کی طرف جانے والی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں داعش کے متعدد خود کش حملہ آور سوار تھے۔

کابل ایئر پورٹ دھماکے، امریکا کا داعش کے ’منصوبہ ساز‘ پر ڈرون حملہ

ڈرون حملے کے بعد امریکا نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اس حملے میں مارے جانے والوں میں داعش کے کتنے لوگ شامل تھے۔

امریکی اخبار کے مطابق ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ترجمان زیماری احمدی، فوجی افسر نصیر، دکان دار ضمیر، طالب علم فیصل، طالب علم فرزاد، 2 سالہ بچہ ایات، 2 سالہ بچی سمیہ، 4 سالہ بچہ ارمین، 3 سالہ بچہ بن یامین شامل تھے۔

واضح رہے کہ کابل ایئر پورٹ دھماکوں کے بعد امریکی فوج نے ایک ڈرون حملہ کیا تھا، خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے کیپٹن بل اربن نے ڈرون حملے کے بعد بتایا کہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے ہدف کو ہلاک کر دیا ہے، یہ ہدف داعش کے ایک مبینہ ’منصوبہ ساز‘ کا تھا، جسے بیان کے مطابق دوست کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔

یہ کارروائی مشرق وسطیٰ سے اڑائے گئے ڈرون کے ذریعے کی گئی تھی، امریکی صدر جو بائیڈن نے اس سے قبل کہا تھا کہ کابل دھماکوں کے ذمہ داروں کو تلاش کر کے انھیں انجام تک پہنچایا جائے گا، انھوں نے پینٹاگون کو حملے کے منصوبہ سازوں کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں