The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں 13 سال میں 423 ڈرون حملے، 3 ہزار 775 افراد ہلاک

اسلام آباد: پاکستان کی تیرہ سالہ ڈرون حملوں کی تاریخ میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین ہزارسے تجاوز کرچکی ہے۔ ڈرون سے داغے گئے میزائلوں کی زد میں بڑی تعدادمیں عام شہری اور کم سن بچے بھی آئے لیکن جواب میں آج تک حکومت پاکستان روایتی احتجاج اور مذمت سے بڑھ کرکچھ نہ کیا۔

پاکستان میں تیرہ سال میں چار سو تیئس امریکی ڈرون حملوں میں تین ہزار سات سو پچہترافرادہلاک، جس میں لگ بھگ چارسو کے قریب پندرہ سال سے کم عمر بچے شامل ہیں، پاکستانی سیاسی قیادت کاروایتی احتجاج اور بس۔

اٹھارہ جون 2004 وانا کے قریب امریکی جاسوس طیارے پہلی بار پاکستانی حدود میں داخل ہوئے، نیک محمد وزیر بچوں سمیت ہلاک ہو گیا، 2005 میں تین ڈرون حملے ہوئے،جس میں پندرہ افراد کے مارےجانے کی اطلاعات موصول ہوئیں، 2006میں دو ڈرون حملوں میں ستانوے افراد ہلاک ہوئے۔

امریکی دعوی کے مطابق ایمن الظواہری کے مدرسے میں ہلاک افراد کی تعداد اسّی تھی، 2007میں چار ڈرون حملے ہوئے، جن میں ہلاکتوں کی تعداد تریسٹھ رہی ، 2008میں تین درجن ڈرون اسٹرائیک ہوئیں، حملوں میں مارے جانے والے افراد کی تعداد تین سو اٹھاون تک جا پہنچی، 2009میں چون حملے ہوئے، جن میں پانچ سو پچانوے افراد ہلاک ہوئے۔

دوہزار دس میں امریکی جاسوس طیاروں نے سب سے زیادہ ایک سو بائیس حملے کئے، جس میں ہلاک افراد کی تعداد نو سو چھیاسی رہی، 2011 میں 73 ڈرون اسٹرائیکس میں چھ سو پچانوے افراد نشانہ بنے، 2012 میں ڈرون سے داغے گئے میزائل چار سو نو افراد کوموت کی وادی میں لے گئے، 2013 میں چبھیس حملے ہوئے ،جن میں ہلاکتوں کی تعداد دو سو تیرانوے رہی۔

دو ہزار چودہ میں جاسوس طیاروں نے بائیس حملے کرکے ایک سو اکہتر افراد کی جان لی، 2015 میں ڈرون دس بار پاکستانی حدود میں داخل ہوئے اور اٹہتر افراد کو ہلاک کرگئے،2016 میں اب تک دو بار امریکی جاسوس طیارے حملہ کرچکےہیں جن میں آٹھ ہلاکتیں ہوئیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں