دبئی: متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں واقع اہم آئل برآمدی مرکز پر ڈرون حملے اور آگ لگنے کے بعد تیل لوڈ کرنے کے بعض آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی رؤئٹرز نے صنعت اور تجارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز پیش آنے والے واقعے کے بعد ٹرمینل پر سرگرمیاں متاثر ہوئیں،
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند گھنٹے قبل امریکا نے ایران کے خارگ آئی لینڈ پر واقع فوجی اہداف اور آئل ایکسپورٹ ٹرمینل پر حملہ کیا تھا۔
اس کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی مفادات، جن میں بندرگاہیں، ڈاکس اور فوجی تنصیبات شامل ہیں ان کے جائز اہداف ہیں۔
فجیرہ، جو آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے، متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل کی برآمد کا اہم مرکز ہے۔ یہاں سے روزانہ تقریباً 10 لاکھ بیرل تیل برآمد کیا جاتا ہے جو عالمی طلب کا تقریباً ایک فیصد بنتا ہے۔
ایران، اسرائیل اور امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریں
عینی شاہدین کے مطابق فجیرہ ٹرمینل سے دھوئیں کے دو الگ الگ بڑے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔ تاہم اس واقعے سے تیل کی لوڈنگ پر پڑنے والے درست اثرات فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکے۔
سینٹ کام کا ایران کے جزیرے خارگ پر 90 فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں




