The news is by your side.

برطانیہ کی کاروباری سرگرمیوں میں تشویشناک حد تک کمی

لندن : برطانیہ میں گزشتہ چند ماہ سے متواتر ایسی خبریں آرہی ہیں جسے وہاں رہنے والا ہر شخص یہ محسوس کررہا ہے کہ موجودہ برطانیہ چند سال قبل کے برطانیہ سے بہت مختلف ہے۔

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کاروباری سرگرمیوں میں کمی نے لوگوں کو شدید متاثر کیا ہے اور خدشہ ہے کہ برطانیہ میں کساد بازاری کی تیزی میں مزید اضافہ ہوگا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے برطانوی اقتصادی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں میں کمی برطانیہ کے کساد بازاری کے خطرے کو مزید تقویت دے رہی ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافے اور آئے دن ہونے والی ہڑتالوں کے سبب معاشی طور پر افراتفری آئندہ بھی برقرار رہنے کی توقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے نجی شعبے کی اقتصادی سرگرمیاں ماہ جنوری میں دو سال کی کم ترین سطح پر تھیں، حالیہ دنوں میں کیے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کاروباری اداروں نے بینک آف انگلینڈ کے سود کی بلند شرح، آئے دن کی ہڑتالوں اور صارفین کی جانب سے خریداری میں کمی کو معیشت کی سست روی کا ذمہ دار قراردیا ہے۔

اس مہینے کے آغاز میں شائع ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال نومبر میں برطانیہ کی معاشی نمو میں وقتی اضافہ ہوا تھا، جس نے گزشتہ سال 2022 کی دوسری سہ ماہی میں گرتی ہوئی پیداوار کے امکانات کو کچھ کم کیا۔

اس صورتحال میں مجموعی طور پر برطانیہ میں صنعتی سرگرمیاں بھی کافی متاثر ہوئی ہیں کیونکہ ریلوے ملازمین، نرسیں، ایمبولینس ڈرائیورز اور اساتذہ اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لیے سڑکوں پر ہیں جس کے سبب مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں