کراچی: انمول عرف پنکی کے بعد گرفتار منشیات فروش فوزیہ کے اہم انکشافات سامنے آگئے، آئس ٹنڈو محمد جام، حیدرآباد اور کراچی میں یومیہ بنیاد پر سپلائی کی جاتی تھی۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے ضلع سینٹرل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہر میں آئس اور ہیروئن سپلائی کرنے والے بین الصوبائی نیٹ ورک کی مبینہ مرکزی ملزمہ فوزیہ بلوچ کو اس کی بہن سکینہ اور ساتھی مولا بخش سمیت گرفتار کر لیا۔
انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد یہ دوسری بڑی خاتون منشیات فروش ہے جو قانون کی گرفت میں آئی، دورانِ تفتیش ملزمہ نے ملک گیر منشیات سپلائی نیٹ ورک سے متعلق انتہائی سنسنی خیز انکشافات کیے۔
ملزمہ فوزیہ نے اعتراف کیا ہے کہ پشاور سے عبدالشکور نامی شخص اور نارکوٹکس کا ایک ملازم انہیں منشیات فراہم کرتے تھے، جہاں سے یہ مال پہلے اسلام آباد اور پھر وہاں سے 10 کلو تک آئس اور ہیروئن کراچی سپلائی کی جاتی تھی۔ یہ منشیات کراچی، حیدرآباد اور ٹنڈو محمد جام میں روزانہ کی بنیاد پر سپلائی ہوتی تھی۔
ملزمہ نے بتایا کہ پہلے ان کا ٹھکانہ غریب آباد میں تھا لیکن پولیس کو پتہ چلنے پر وہ حیدرآباد منتقل ہو گئے تھے۔ اس نیٹ ورک میں پشاور کے 5 بڑے کرداروں سمیت شعیب، انیس اور جاوید نامی مرکزی ملزمان شامل ہیں۔
ملزمہ نے منشیات کی قیمتوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ نیٹ ورک کے کارندوں کو آئس 1 لاکھ 50 ہزار روپے کلو، جبکہ اعلیٰ کوالٹی کی آئس 2 لاکھ روپے اور ہیروئن 3 لاکھ روپے فی کلو کے حساب سے فراہم کی جاتی تھی۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمہ سکینہ، فوزیہ کی سگی بہن ہے اور اس پورے گینگ سے متعلق مزید تحقیقات اور دیگر ملوث کرداروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


