اسلام آباد(3 اگست 2026): پاکستانی مارکیٹ میں کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بھارتی اور دیگر غیر ملکی ساختہ غیر قانونی اور جعلی ادویات کی فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے کینسر کی نو ادویات کو جعلی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈریپ نے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی کی درخواست پر فوری نوعیت کا ریپڈ الرٹ جاری کیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ غیر قانونی اور جعلی ادویات بھارتی، جرمن اور بنگلہ دیشی کمپنیوں کی تیار کردہ ظاہر کی گئی ہیں، تاہم ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی جانب سے کیے جانے والے تجزیے میں ان ادویات کے سیمپلز میں مطلوبہ خام مال کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
جعلی قرار دی جانے والی یہ ادویات جگر، گردے، پھیپھڑوں، تھائیرائیڈ اور بریسٹ کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ان ادویات کو ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت جعلی اور غیر قانونی قرار دیا گیا ہے، جو کہ غیر قانونی ذرائع سے مارکیٹ میں سپلائی کی گئی تھیں۔
ڈریپ کا کہنا ہے کہ ان جعلی ادویات کا معیار اور افادیت مکمل طور پر غیر واضح ہے، اور ان کا استعمال مریضوں کی جان کے لیے انتہائی خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر ڈریپ نے جعلی اور غیر قانونی ادویات کی روک تھام کے لیے ہنگامی اقدامات کی ہدایت جاری کی ہے۔ ریگولیٹری فورس اور صوبائی ڈرگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹس کو مارکیٹ میں سرویلنس بڑھانے اور جعلی ادویات کے تمام بیچز فوری طور پر ضبط کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ ڈسٹریبیوٹرز اور میڈیکل اسٹورز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسی ادویات کی موجودگی کی فوری اطلاع دیں، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مارکیٹ میں دستیاب اس نوعیت کی مشکوک یا جعلی ادویات کے بارے میں فوراً آگاہ کریں۔


