بھارت کے شہر رائے پور میں خاتون ڈی ایس پی کلپنا ورما نے تاجر کو محبت کے جال میں پھنسا کر کروڑوں روپے بٹور لیے۔
بھارت میں تاجر نے ڈی ایس پی کلپنا ورما پر الزام عائدکیا ہے کہ انہوں نے دھمکیوں اور دھوکے سے پیسے، زیورات، لگژری کار بٹور لی اور ہوٹل بھی اپنے نام کروالیا۔
تاجر دیپک ٹنڈن کی جانب سے ڈی ایس پی کلپنا ورما پر بھتہ خوری، دھوکہ دہی اور بلیک میلنگ کا الزام لگاتے ہوئے شکایت درج کرانے کے بعد ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔
اس واقعے نے محکمہ پولیس میں جوابدہی کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے کیونکہ الزامات میں بہت زیادہ مالیاتی لین دین اور ذاتی تعلقات کے ذریعے ہیرا پھیری کے دعوے شامل ہیں۔
دیپک ٹنڈن کے مطابق اس کی پہلی ملاقات 2021 میں ڈی ایس پی ورما سے ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دوستی بڑھی اور اس دوران کلپنا نے مبینہ طور پر شادی کا وعدہ کیا اور آہستہ آہستہ پیسے اور مہنگے تحائف کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔
تاجر نے تقریباً دو کروڑ روپے، 12 لاکھ کی ہیرے کی انگوٹھی، سونے کی چین، پانچ لاکھ مالیت کے کپڑے اور ایک لاکھ کا کڑا دیا۔
تاجر نے مزید الزام لگایا ہے کہ افسر نے ان کی ٹویوٹا انووا کرسٹا کو اپنے قبضے میں لیا اور بعد میں رائے پور کے وی آئی پی روڈ پر واقع اپنے ہوٹل کو منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ تاجر کا دعویٰ ہے کہ جائیداد کو پہلے اس کے رشتہ دار کے نام پر رجسٹر کرایا گیا اور بعد میں اسے اپنے نام پر منتقل کر دیا گیا۔
ڈی ایس پی کلپنا ورما نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ وہ کسی بھی تحقیقات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


