The news is by your side.

Advertisement

وہاڑی: پولیس کا خاتون پر تشدد، گرفتار ڈی ایس پی سمیت اہل کاروں کو حوالات میں پروٹوکول

ملوث پولیس اہل کاروں کو معطل کرنا کافی نہیں بلکہ بر طرف کیا جائے: وزیر اعلیٰ پنجاب

وہاڑی: پنجاب پولیس کا شہریوں پر تشدد کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا، تھانہ لڈن پولیس نے چوری کے الزام میں گرفتار خاتون پر شدید تشدد کر کے اسپتال پہنچا دیا۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ لڈن پولیس کے چوری کے الزام میں گرفتار خاتون پر تشدد کی رپورٹ منظر عام پر آ گئی، پولیس کے تشدد کی شکار خاتون کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں خاتون کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا، خاتون کی حالت اب تک سنبھل نہیں سکی۔

واقعے کے بعد ڈی ایس پی، ایس ایچ او، انچارج سی آئی اے سمیت 13 ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان کو آر پی او کی ہدایت پر گرفتار کیا گیا۔

آئی جی پنجاب عارف نواز خان نے لڈن وہاڑی میں خاتون پر تشدد کے واقعہ پر ایس ڈی پی او صدر، وہاڑی طارق پرویز کو معطل کر دیا۔ ایس ڈی پی او صدر وہاڑی کو غیر ذمہ دارانہ رویے اور نا اہلی کے الزامات پر معطل کرتے ہوئے سنٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کے احکاما ت جاری کیے گئے۔

تازہ ترین خبریں پڑھیں:  پولیس تشدد سے عامر مسیح کی موت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر

ادھر ذرایع کا کہنا ہے کہ گرفتار ڈی ایس پی سمیت دیگر اہل کاروں کو حوالات میں پروٹوکول دیا جا رہا ہے، اہل کاروں کو تصویر جاری کرنے کے بعد لاک اپ سے باہر نکال لیا گیا۔

ذرایع نے مزید بتایا کہ ڈی ایس پی سمیت گرفتار تمام ملازمین کو موبائل فون کی سہولت بھی دی گئی ہے، تھانہ لڈن کو سیل کر دیا گیا ہے، کسی بھی شخص کو اندر جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ وہاڑی میں خاتون پر تشدد روایتی پولیس کلچر کی بد ترین مثال ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملوث پولیس اہل کاروں کو معطل کرنا کافی نہیں بلکہ بر طرف کیا جائے، پولیس کو کسی صورت بھی تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں