The news is by your side.

Advertisement

تشدد کیس، انکوائری کمیٹی کا سامنا کرنے کے بجائے ڈی ایس پی حیدرآباد پہنچ گئے

کراچی : فیروز آباد تھانے میں نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے معطل ڈی ایس پی یعقوب جٹ انکوائری کمیٹی کا سامنا کرنے کے بجائے حیدر آباد چلے گئے ہیں، پولیس اپنے پیٹی بھائی کو بچانے کے لیے سرگرم ہو گئی ہے.

تفصیلات کے مطابق سابق ڈی ایس پی یعقوب جٹ آئی جی سندھ کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی کا سامنا کرنے کے بجائے حیدر آباد چلے گئے ہیں جس سے تحقیقات میں مشکل پیش آسکتی ہیں اور مقدمہ طول پکڑ سکتا ہے.

ڈی ایس پی یعقوب جٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں اس وقت حیدر آباد میں ہوں تاہم اگر انکوائری کے لیے بلایا جائے گا تو واپس کراچی آجاؤں گا اور انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے میں را تردد نہیں کروں گا.

خیال رہے کہ فیروز آباد تھانے میں دو نوجوانوں کو برہنہ کرکے تشدد کرنے پر آئی جی سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ کو انکوائری افسر مقرر کردیا ہے جس کے لیے باقاعدہ تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا گیا ہے.

اے آر وائی نیوز نے آئی جی سندھ کے آرڈر کی کاپی حاصل کرلی ہے جس میں ڈی آئی جی کو 7 روز میں انکوائری مکمل کر کے رپورٹ دینے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم اس سے قبل ہی یعقوب جٹ حیدرآباد روانہ ہوگئے ہیں.

یاد رہے کہ 21 دسمبر کی شب ڈی ایس پی یعقوب جٹ نے پولیس لائن کے رہائشی دو نوجوانوں کو گھروں سے اُٹھا کر تھانے کی چھت پر برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد اہل خانہ کے احتجاج اور میڈیا کے دباؤ کے باعث پہلے تو ڈی ایس پی کسی بھی تشدد سے انکار کرتے رہے تاہم ویڈیو نے بھانڈا پھوڑ دیا تھا.

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں