The news is by your side.

Advertisement

دعا منگی اغوا: پولیس کی پھرتیاں، ہائی پروفائل کیس خراب ہونے کا خدشہ

کراچی: ڈیفنس میں لڑکی کے اغوا اور لڑکے کے فائرنگ سے زخمی ہونے کے واقعے میں پولیس بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر خود ہائی پروفائل کیس خراب کرنے پر تل گئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق دعا منگی اغوا کیس میں مماثلت رکھنے والی کار برآمدگی پر پولیس کی بے جا پھرتیوں کے باعث ہائی پروفائل کیس خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، تفتیشی ذرایع کا کہنا ہے کہ خالد بن ولید سے چھینی گئی کار کو ملزمان خود چھوڑ کر فرار ہوئے تھے تاہم شارع فیصل پولیس نے کارکردگی دکھانے کے لیے اسے مقابلہ ظاہر کر دیا۔

پولیس مقابلہ اصل تھا یا جعلی، اس سلسلے میں اے آر وائی نیوز نے اصل کہانی کا پتا چلا لیا ہے، گاڑی فیروز آباد کی حدود سے 27 نومبر کو چھینی گئی تھی، شارع فیصل پولیس نے 25 نومبر لکھ دیا، اے آر وائی نیوز نے شارع فیصل تھانے میں درج مقدمے کی کاپی بھی حاصل کر لی۔

یہ بھی پڑھیں:  دعا اغوا کیس میں مماثلت رکھنے والی گاڑی برآمد

ایف آئی آر کے متن میں لکھا گیا ہے کہ شارع فیصل پولیس نے 3 مشتبہ ملزمان کو رکنے کا اشارہ کیا تو ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کر دی، پولیس نے جوابی فائرنگ کی، ملزمان نے پولیس پر 8 اور پولیس نے ملزمان پر 5 گولیاں چلائیں، پولیس فائرنگ سے تینوں ملزمان کار چھوڑ کر پیدل فرار ہو گئے۔

دوسری طرف تفتیشی ذرایع کا کہنا ہے کہ چھِینی گئی گاڑی یکم دسمبر کو ملزمان خود چھوڑ کر فرار ہوئے تھے، پولیس کو ون فائیو مددگار پر گاڑی چھوڑے جانے کی اطلاع موصول ہو چکی تھی، 2 دسمبر کو اے آر وائی نیوز نے مماثلت رکھنے والی کار کی خبر بھی نشر کی، شارع فیصل پولیس کو تب پتا چلا کہ گزشتہ روز چلنے والی انٹری مذکورہ گاڑی کی تھی۔

تفتیشی ذرایع کے مطابق 3 دسمبر کو شارع فیصل پولیس نے چھوڑی گاڑی کو مقابلے میں ظاہر کر دیا، ایس ایس پی تنویرعالم اوڈھو خود میڈیا کو لاوارث کار ملنے کا بتا چکے تھے، ہاتھ سے تحریر ایف آئی آر فیروز آباد اور مقدمے کی پرنٹ کاپی شارع فیصل تھانے کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں