The news is by your side.

Advertisement

دعا منگی کی عدم بازیابی، اہل خانہ نے تاوان مانگے جانے کی تردید کردی

کراچی : شہر قائد سے اغواء ہونے والی اٹھارہ سال کی دعا منگی کہاں چلی گئی، پانچ دن بعد بھی سراغ نہیں مل سکا، لڑکی کے ماموںاعجاز منگی نے تاوان کے مطالبے کی تردید کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سے اغوا ہونے والی لڑکی دعا منگی کا کیس پولیس کیلئے معمہ بن گیا، واقعے کو گزرے پانچ دن ہوگئے لیکن پولیس مغویہ کا سراغ لگانے میں تاحال ناکام ہے۔

میڈیا میں گردش کرنے والی لڑکی کے اہل خانہ کو تاوان سے متعلق خبر بھی غلط نکلی، اس حوالے سے مغویہ کے ماموں اعجاز منگی کا کہنا ہے کہ میں اس بات کی تردید کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک دعا کے اغوا کاروں کی جانب سے تاوان کے حوالے سے کوئی کال نہیں آئی، اگر پولیس کو اس حوالے سے کوئی معلومات تھیں تو میڈیا کو خبر دینے کے بجائے ان کی ذمہ داری تھی کہ پہلے دعا کے اہلِ خانہ کے علم میں لائیں۔

دعا کے ماموں نے پولیس کی کارکردگی پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر بسمہ کے اغوا کار گرفتار ہوجاتے تو دعا منگی اغوا نہ ہوتی۔

دوسری جانب وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ لڑکی کے اغواء کے حوالے سے کچھ شواہد ملے ہیں، تاہم پولیس کو بازیابی کے لیے موقع دینا چاہیے۔

مزید پڑھیں : دعا منگی اغوا کیس میں اہم پیشرفت

علاوہ ازیں پولیس کا کہنا ہے کہ تین مقامات پر واردات کی جیو فینسنگ کی گئی، ذرائع کے مطابق پولیس نے بیان قلمبند کرکے عینی شاہدین کو چھو ڑدیا ہے، فائرنگ سے زخمی دعا کے دوست حارث کا ابھی تک بیان بھی نہیں لیا جاسکا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں